کرائٹیرین کا مسئلہ
الرسالہ، جنوری ۲۰۲۳، صفحہ ۳۵
کرائٹیرین کا مسئلہ
کرائٹیرین (criterion) کیا ہے — ایک اصول یا معیار یا جانچ جس کی بنیاد پر کوئی رائے قائم کی جاسکتی ہو یا فیصلہ کیا جاسکتا ہو :
A principle or standard or test by which something may be judged or decided. کرائٹیرین کا مسئلہ بے حد اہم مسئلہ ہے۔ بیشتر فکری گمراہیاں صرف اس لیے پیدا ہوتی ہیں کہ لوگوں کے ذہن کرائٹیرین واضح نہیں ہوتا۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ آدمی اپنے آپ کو صحیح سمجھ رہا ہوتا ہے، حالاں کہ جس کرائٹیرین میں سے وہ اپنی بات کو جانچتا ہے، وہ غلط کرائٹیرین ہوتا ہے۔ اگر وہ اپنی بات کو درست کرائٹیرین پر جانچے تو وہ جان لے گا کہ اس کی سوچ صدفی صد غلط ہے۔ مثال کے طور پر خلیفہ اول حضرت ابوبکر نے جب حضرت عمر فاروق کو امیر المومنین مقرر کیا تو بیشتر صحابہ اس رائے سے اتفاق نہ کر سکے۔ ان کا کہنا یہ تھا کہ عمر ایک سخت گیر انسان ہیں اور سخت گیر انسان کو امیر المومنین نہیں ہونا چاہیے۔ حضرت ابو بکر نے اس کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ صحیح ہے کہ وہ سخت گیر ہیں، مگر ان کی سختی اس لیے تھی کہ میں نرم تھا۔ میں تم لوگوں کا خلیفہ اس شخص کو بنا رہا ہوں جو خلافت کے لیے سب سے اہل ہے (الکامل فی التاریخ ، جلد 2 ، صفحہ 67-266 )۔ اس سے معلوم ہوا کہ جو لوگ عمر فاروق کی امارت کے مخالف تھے وہ اپنی رائے کے حق میں غلط کرائٹیرین استعمال کر رہے تھے۔ امیر کے لیے اصل کرائٹیرین یہ نہیں ہے کہ وہ سخت ہے یا نرم۔ اس کے بجائے اصل کرائٹیرین یہ ہے کہ وہ مدبر انسان ہو۔ وہ خدا سے ڈرنے والا ہو۔ وہ کمزور شخصیت کا مالک نہ ہو۔ وہ حق اور ناحق میں فرق کرنا جانتا ہو۔
صحیح کرائٹیرین کے اعتبار سے دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ خلافت کے لیے حضرت عمر فاروق کا انتخاب نہایت درست تھا۔ اس کے برعکس، اگر اس معاملے کو غلط کرائٹیرین سے دیکھا جائے تو ایک شخص کہے گا کہ خلافت کے لیے عمر فاروق کا انتخاب درست نہ تھا۔ کیوں کہ ان کے مزاج میں بہت زیادہ شدت تھی۔ حالانکہ یہ کرائٹیرین ہی اس معاملے میں بجائے خود درست نہیں — جیسا کام ہو ویسی ہی اہلیت درکار ہوتی ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 2023 All issues