Al-Risala · January 2023 · page 34

کائناتی کلچر

الرسالہ، جنوری ۲۰۲۳، صفحہ ۳۴

کائناتی کلچر

میل ملاپ کوئی سادہ بات نہیں۔ وہ ہر قسم کی انسانی ترقی کا زینہ ہے۔ جس سماج میں لوگوں کے درمیان ملناجلنانہ ہووہاں ہر ایک محدود ہو کر رہ جائے گا۔ کوئی بھی شخص یا گروہ زیادہ آگے بڑھنے میں کامیاب نہیں ہو گا۔ میل ملاپ فطرت کا قانون ہے۔ وہ ساری کائنات میں ہر طرف جاری ہے۔ درخت ایک دوسرے سے نہیں مل سکتے تو خدا نے ان کے درمیان ہوائیں چلادیں جس کے ذریعہ وہ ایک دوسرے سے جڑ جاتے ہیں۔ خلا کے ستارے ایک دوسرے سے بہت دور ہیں، ان کا آپس میں جسمانی طور پر ملنا ممکن نہیں، خدا نے انھیں روشنی دے دی۔ چنانچہ وہ روشنی کے ذریعہ ایک دوسرے سے مربوط ہوجاتے ہیں۔ پہاڑ کی چوٹیوں سے جاری ہونے والے چشمے سمندر سے بہت دور تھے مگر خدا نے ان کے لیے بہاؤ کی صورت پیدا کردی۔ اس طرح یہ چشمے دریاؤں میں بہتے ہوئے سمندر میں جا کر مل جاتے ہیں۔ میل ملاپ ایک یونیورسل کلچر ہے۔ یہی یونیورسل کلچر انسان کو بھی اختیار کرنا ہے۔ قرآن کے مطابق، بقیہ کائنات کا نظام آپسی ٹکراؤ کے بغیر درست طور پر باہمی ہم آہنگی کے ذریعہ چل رہا ہے (يس، 40: ٹھیک اسی طرح انسانی زندگی کا نظام بھی درست طور پر اس وقت چل سکتا ہے جب کہ انسان بھی اس کا ئناتی کلچر کو اختیار کرے۔

دو انسان یا زیادہ انسان جب باہم ملتے ہیں تو یہ پتھروں کا باہم ملنا نہیں ہوتا۔ بلکہ یہ ایسی مخلوق کا ملنا ہوتا ہے جس کے اندر عقل اور جذبات کی صلاحیتیں موجود ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ انسانوں کا آپس میں ملنا جلنا مختلف قسم کے عظیم فائدوں کا سبب بن جاتا ہے۔ اس طرح باہمی محبت بڑھتی ہے۔ یہ عمل ذہنی ارتقاء میں مددگار بنتا ہے۔ لوگ ایک دوسرے کے تجربات سے نئی نئی باتیں سیکھتے ہیں۔ ہر فرد انسانیت کے مجموعی خزانے میں حصہ دار بن جاتا ہے۔ میل ملاپ صرف ایک سماجی سلوک نہیں۔ وسیع تر معنی میں، وہ زندگی کی ایک عظیم تر حکمت ہے۔ اس حقیقت کی طرف ایک حدیث رسول میں اس طرح اشارہ کیا گیا ہے کہ وہ مومن جو لوگوں سے میل جول رکھتا ہے، اور ان کی اذیت پر صبر کرتا ہے، وہ اجر میں اس سے زیادہ ہے جو ایسا نہیں کرتا (مسند احمد، حدیث نمبر 5022)۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2023 All issues

Printed page