Al-Risala · November 2023 · page 13

اجتہاد کا معاملہ

الرسالہ، نومبر ۲۰۲۳، صفحہ ۱۳

جدید مسئلہ کیا ہے؟

انسانی تاریخ کو دو بڑے دوروں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ دور سائنس سے پہلے، اور دور سائنس کے بعد۔ وہ چیز جس کو "دورِ جدید" کہتے ہیں، وہ حقیقۃً دورِ سائنس کا دوسرا نام ہے۔ یہ دور واضح طور پر سترھویں صدی میں شروع ہوا اور دوسری جنگِ عظیم (1939-45ء) تک اپنے آخری عروج پر پہنچ گیا۔

انسان خارجی طور پر جو عمل کرتا ہے، اس کے لیے اس کے پاس دو قدرتی ذریعے ہیں: حواس (senses) اور طاقت۔ حواس کے ذریعے وہ اشیاء کا علم حاصل کرتا ہے، اور طاقت کے ذریعے اپنے ارادہ کو ان کے اوپر نافذ کر کے ان کو اپنے لیے کارآمد بناتا ہے۔ یہ دونوں عمل قدیم ترین زمانے سے جاری ہیں۔ پچھلے زمانہ میں اشیاء کو جاننے کے لیے اس کے پاس صرف وہ قدرتی عطیات تھے جن کو حواسِ خمسہ (five senses) کہا جاتا ہے اور خارجی دنیا میں تصرف کرنے کے لیے اس کے پاس اپنے ہاتھ پاؤں تھے یا حیوانی طاقت، مثلاً اونٹ، گھوڑے، ہاتھی، بیل وغیرہ۔ تاہم ان ابتدائی قدرتی عطیات کے علاوہ زمین میں بے شمار ایسی چیزیں تھیں جو اس بات کو ممکن بناتی تھیں کہ ان کو حاصل کر کے آدمی اپنے حواس اور طاقت دونوں کی مقدار کو بڑھا سکے۔ اضافے کا یہ عمل نامعلوم زمانے سے جاری تھا۔ مردہ تہذیبوں کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ پچھلے ادوار میں بھی انسان اس میدان میں بڑی بڑی ترقیات حاصل کرتا رہا ہے۔ تاہم ماضی کی تمام ترقیاں ابتدائی فطری حدود کے اندر ہوتی تھیں۔ مثلاً پتھر کی جگہ لوہے کو کام میں لانا یا پہیہ دار گاڑی بنا کر جانوروں کو سواری کے لیے استعمال کرنا۔ موجودہ دور کو یہ اولیت حاصل ہے کہ اس نے معلوم تاریخ میں پہلی بار فطرت میں چھپی ہوئی انرجی کو استعمال کر کے ایسے میکانکی اور آلاتی معاون دریافت کر لیے جو ہمارے دیکھنے اور تجربہ کرنے کی صلاحیت کو لاکھوں کروڑوں گنا زیادہ بڑھا سکتے تھے۔ اس دریافت کا براہ راست فائدہ تو صرف یہ تھا کہ انسانی تمدن کے لیے مادی ترقی کا ایک نیا وسیع تر دروازہ کھل گیا۔ انسان کے لیے یہ ممکن ہو گیا کہ وہ اپنے سفر کی رفتار کو بے حساب مقدار میں بڑھا

‹ Previous page Next page › Contents of November 2023 All issues

Printed page