Al-Risala · November 2023 · page 12

اجتہاد کا معاملہ

الرسالہ، نومبر ۲۰۲۳، صفحہ ۱۲

اجتہاد کا معاملہ

اجتہاد کا لفظی مطلب ہے، پوری کوشش کرنا (to strive)۔ قرآن میں اس کے ہم معنی لفظ استنباط آیا ہے (4:83)۔ اجتہاد کا مقصد ہے، بدلے ہوئے حالات میں، دین کے ابتدائی ریفرنس میں دیے گئے حکم کی نئی تطبیق (new application) تلاش کرنا۔ مثلاً جدید طرز کے موزے (socks) کے وجود میں آنے کے بعد اس پر قدیم طرز کے جراب کے حکم کو منطبق کرنا۔

اجتہاد صحیح بھی ہوسکتا ہے اور غلط بھی، لیکن اس اندیشہ کی بنا پر کبھی اجتہاد کے عمل کو روکا نہیں جائے گا۔ صرف یہ زور دیا جائے گا کہ اجتہاد کے لیے اخلاص نیت لازم ہے۔ حدیث میں ہے کہ اگر کوئی مومن اجتہاد کر لے اور اس کا اجتہاد درست ہو تو اس پر اس کو دہرا ثواب ملے گا۔ اور اگر وہ اخلاص نیت کے باوجود اجتہاد میں غلطی کر جائے تو اس کو اس کے اجتہاد پر ایک ثواب ملے گا (صحیح البخاری، حدیث نمبر 7352)۔

تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ اجتہاد کے معاملہ میں ہمیشہ غلطی کا امکان رہتا ہے حتی کہ بڑے بڑے اہل ایمان نے بھی غلطیاں کی ہیں۔ آدمی کو چاہئے کہ جب اس پر اجتہاد کی غلطی واضح ہو جائے تو وہ کھلے طور پر اپنی غلطی کا اعتراف کرے اور وہ اپنی رائے کو درست کر لے۔ اجتہاد کسی قوم کے لیے زندگی کی علامت ہے۔ اجتہاد سے قوم کے اندر تعمیری عمل مسلسل طور پر جاری رہتا ہے۔ اجتہاد سے لوگوں کے اندر تخلیقی سوچ (creative thinking) پیدا ہوتی ہے۔ اس کے برعکس، جب اجتہاد کا عمل رک جائے تو یقینی طور پر لوگوں کے اندر ذہنی جمود پیدا ہو جائے گا اور ذہنی جمود (intellectual stagnation) بلا شبہ اسلام میں ایک غیر مطلوب چیز ہے۔ جب کوئی آدمی اخلاص نیت کے ساتھ اجتہاد کرے تو فطری طور پر ایسا ہوگا کہ وہ معاملہ پر گہرائی کے ساتھ غور کرے گا، وہ سنجیدگی کے ساتھ اس کا جائزہ لے گا۔ وہ اس موضوع پر کتابوں کا مطالعہ کرے گا۔ وہ اہل علم سے اس موضوع پر تبادلہ خیال کرے گا۔ یہ تمام چیزیں اخلاص نیت میں شامل ہیں۔ ان چیزوں کا ہونا اخلاص نیت کا ثبوت ہے اور ان چیزوں کا نہ ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ آدمی کے اندر اخلاص نیت موجود نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2023 All issues

Printed page