اجتہاد کا معاملہ
الرسالہ، نومبر ۲۰۲۳، صفحہ ۱۵
مزعومہ عقائد سے ٹکراتے تھے۔ مسیحیت کے پیشواؤں کہ اس وقت اقتدار کی حالت میں تھے، انہوں نے ان سائنس دانوں کی سخت مخالفت کی اور انہیں سخت سزائیں دیں۔ اس کی تفصیل ولیم ڈریپر (وفات 1882ء) کی کتاب "معرکہ مذہب و سائنس کی تاریخ" میں دیکھی جاسکتی ہے:
History of the Conflict between Religion and Science by John William Draper, London, 1875. مسیحی پیشواؤں کے اس اقدام نے عام لوگوں میں یہ تاثر پیدا کیا کہ یہ ٹکراؤ حقیقت میں مذہب اور سائنس کا ٹکراؤ ہے، اور جب دلائل کی منطق صریح طور پر سائنس کی طرف ہے تو یقیناً مذہب ایک بے اصل چیز ہے۔ مذہب کی حقیقت تو ہم پرستی (superstition) کے سوا اور کچھ نہیں۔ یعنی یہ ٹکراؤ اپنی حقیقت کے اعتبار سے اہل سائنس اور اہل مذہب کے درمیان تھا۔ مگر غلط طور پر اس کو سائنس اور مذہب کا ٹکراؤ سمجھ لیا گیا۔ اُس وقت جذباتی ہیجان کی بنا پر اس فرق کو سمجھانہ جاسکا اور سائنسی تہذیب غلط طور پر اپنے آغاز ہی میں عملاً ایک مخالف مذہب تہذیب کی حیثیت اختیار کر گئی ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ سائنسی تہذیب کے لوگ مذہب کو اپنا حریف سمجھنے لگے اور اہل مذہب نے سائنس کو اپنا دشمن فرض کر لیا۔ یہ منفی ذہن ابتدا مسیحیت کے مقابلہ میں پیدا ہوا۔ اس کے بعد وہ توسیع پا کر دوسرے مذاہب تک پہنچ گیا ۔
اس کی ایک مثال یہ ہے کہ زمین اور سورج کی گردش کے بارے میں قدیم یونان میں دو نظریے پیش کیے گئے تھے۔ ایک ارسطو کا نظریہ جس کا مطلب یہ تھا کہ زمین قائم ہے اور سورج اس کے گرد گھوم رہا ہے۔ دوسرا ارسٹاکس (Aristarchus) کا نظریہ جس کے مطابق زمین سورج کے گرد گھوم رہی تھی ۔
عیسائیوں کے درمیان ارسطو کا نظریہ بہت مقبول ہوا۔ کیوں کہ مرکزیت زمین کے نظریہ (Geocentric Theory) میں زمین کو بنیادی اہمیت حاصل ہو رہی تھی اور چونکہ انھوں نے حضرت مسیح کو خدائی کا مقام دے رکھا تھا۔ اس لیے ان کا خیال یہ ہو گیا کہ وہی کرہ نظام شمسی کا مرکز بن سکتا ہے جہاں خداوند مسیح پیدا ہوئے ہیں۔ حتی کہ مرکزیت زمین کے نظریہ کو انھوں نے اپنے علم کلام میں داخل کر لیا ۔ کوپرنیکس (1543-1473ء) نے جب مرکزیت آفتاب کا نظریہ
‹ Previous page Next page › Contents of November 2023 All issues