اجتہاد کا معاملہ
الرسالہ، نومبر ۲۰۲۳، صفحہ ۱۶
(heliocentric theory) پیش کیا تو یورپ کے عیسائی پیشواؤں کو اقتدار حاصل تھا۔ انھوں نے اپنے عقیدہ کے تحفظ کے لیے کوپر نیکس کے خلاف عدالتی سزا کا حکم جاری کر دیا۔ خداوند کی جنم بھومی کو تابع (satellite) قرار دینا ایک ایسا جرم تھا جو کسی طرح معاف نہیں کیا جا سکتا تھا۔ مگر یہ مسئلہ روایتی عیسائیت کا تھا، نہ کہ حقیقی معنوں میں خدائی مذہب کا۔ چنانچہ مسلمان جو اس اعتقادی پیچیدگی میں مبتلا نہ تھے کہ پیغمبر کو خدا سمجھیں، انھوں نے مرکزیت آفتاب کے نظریہ کو زیادہ معقول پا کر اسے قبول کر لیا۔ ان کے یہاں یہ سوال نہیں اٹھا کہ شمسی مرکزیت کا نظریہ مذہبی تعلیمات سے ٹکراتا ہے۔ امریکی رائٹر ایڈورڈ برنس نے لکھا ہے:
"ارسطو کے احترام کے باوجود عرب کائنات کے بارے میں ارسطو کے نظریہ پر تنقید کرنے میں نہیں ہچکچائے، جس کا مطلب یہ تھا کہ زمین آسمانی اجرام (celestial bodies) کا مرکز ہے اور تمام اجرام اس کے گرد گھوم رہے ہیں۔ اس کے برعکس، عربوں نے اس امکان کو تسلیم کیا کہ زمین اپنے محور پر گردش کرتی ہوئی سورج کے گرد گھوم رہی ہے۔ "
Edward McNall Burns: Western Civilization, p. 264 2۔ دوسری غلطی سائنس دانوں یا کم از کم سائنس کے حوالے سے بولنے والوں نے کی۔ عالم طبیعیات میں اپنی دریافت سے وہ اس غلط فہمی میں پڑ گئے کہ وہ اس حیثیت میں ہیں کہ وسیع تر فلسفیانہ مسائل کے بارے میں رائے زنی کر سکیں ۔ حالاں کہ، جیسا کہ خود سائنس کی مزید دریافتوں سے معلوم ہوا، عالم طبیعی کے بارے میں ان کے مشاہدات، فلسفہ یا عالم افکار کے نازک مسائل کے بارے میں کوئی رائے قائم کرنے کے لیے انتہائی ناکافی تھے۔
سائنس دانوں کی غلطی کی ایک مثال اصول تعلیل (causation) میں ملتی ہے۔ اشیاء کے مشاہدہ سے جب یہ حقیقت ان کے سامنے آئی کہ واقعات کے پیچھے ایک سبب کارفرما ہوتا ہے، مثال کے طور پر اجرام سماوی (celestial bodies) کی گردش کے پیچھے جذب و کشش کا قانون (law of gravitation) یا قوس قزح (rainbow) کے پیچھے بارش کے قطرات سے سورج کی شعاعوں کا گزرنا ہے، تو انھوں نے سمجھ لیا کہ ان کو اس سوال کا جواب مل گیا ہے جس کے لیے فلسفہ
‹ Previous page Next page › Contents of November 2023 All issues