نئے سال کا پیغام
الرسالہ، جنوری ۲۰۲۳، صفحہ ۳۸
نئے سال کا پیغام
مولانا وحید الدین خاں صاحب نے اپنی ڈائری میں ایک حکیمانہ قول ان الفاظ میں لکھا ہے—“صبح ہر ایک کے لیے آتی ہے۔ مگر روشن صبح کو صرف وہ شخص دیکھتا ہے جو صبح کے وقت اپنی آنکھ کھلی رکھے جو آدمی اپنی آنکھیں بند کرلے اس کے لیے کوئی صبح صبح نہیں۔ ” یہ اصول موجودہ دنیا کے ہر انسان کے لیے ہے، اور ہر ایک فیلڈ کے لیے۔ صبح کو دیکھنے کا مطلب ہے مواقع کو پا کر اس کو آویل (avail) کرنا۔ نیا سال گویا خدا کی طرف سے 365 دنوں کا نیا موقع ہے۔ مگر جس طرح دوسری چیزوں کی قیمت ادا کرنی پڑتی ہے، اسی طرح خدا کے دیے ہوئے مواقع کو آویل کرنے کی بھی ایک قیمت (price) ہے۔ وہ قیمت کیا ہے؟ مختصر الفاظ میں یہ قیمت ہے اپنے آپ کو ایک سنثیر (sincere) انسان بنانا، زندگی کے حکیمانہ اصولوں کو اپنانا اور غیر حکیمانہ روش کو ترک کرنا۔ اس کی وضاحت کے لیے ذیل میں مولانا وحید الدین خاں صاحب کی کچھ تحریریں پیش کی جارہی ہیں (فرہاد احمد)۔
انسان کی خصوصیت
انسان ایک ذی حیات مخلوق ہے۔ سائنسی مطالعے کے مطابق، موجودہ دنیا میں اندازہ کے مطابق، تقریباً ایک ٹریلین (one trillion) کی تعداد میں ذی حیات اشیاء (living things) پائی جاتی ہیں۔ ان تمام ذی حیات چیزوں میں انسان ایک خصوصی حیثیت رکھتا ہے۔ بقیہ تمام اشیاء کامل طور پر قانون فطرت (law of nature) کی پابند ہیں۔ پوری دنیا میں انسان ایک واحد مخلوق ہے، جس کو کامل آزادی ملی ہوئی ہے۔ وہ خود اپنے اختیار سے اپنے عمل کا انتخاب کرتا ہے۔ اسی امتیازی صفت کو قرآن میں خلافت (2:30) اور امانت (33:72) کہا گیا ہے۔
اسی صفت خاص کی بنا پر انسان کے لیے اگلے دور حیات میں ابدی جنت کا انعام ہے۔ دوسری ذی حیات اشیاء کے برعکس، انسان کو اپنی زندگی میں ایک امتیازی عمل کا نمونہ پیش کرنا ہے۔ اس کو خود دریافت کردہ سچائی (self-discovered truth) پر کھڑا ہونا ہے، اس کو خود اپنے فیصلے کے تحت صحیح راستہ پر چلنا ہے، اس کو خود اپنے ارادے کے تحت سیلف کنٹرول (self control) کی زندگی
‹ Previous page Next page › Contents of January 2023 All issues