Al-Risala · January 2023 · page 39

اپنی تعمیر آپ

الرسالہ، جنوری ۲۰۲۳، صفحہ ۳۹

گزارنا ہے، اسی کو خود اپنے فیصلہ کے تحت اطاعت کی زندگی اختیار کرنا ہے۔ یہی انسان کا امتیاز ہے۔ مگر ہر عطیہ کے ساتھ ہمیشہ ایک ذمہ داری شامل رہتی ہے۔ چنانچہ انسان کے اس امتیاز کے ساتھ ایک ذمہ داری بھی شامل ہے۔ اور وہ وہی ہے جس کو امتحان (test) کہا جاتا ہے۔ انسان کا امتحان یہ ہے کہ وہ آزادی کے باوجود اپنے آپ کو اللہ کے آگے جھکادے۔ آزادی کے باوجود وہ اللہ کا فرمانبردار بن جائے۔ آزادی کے باوجود اپنے آپ کو سرکشی اور بے راہ روی سے بچائے۔ وہ خود دریافت کردہ سچائی پر کھڑا ہو، اور خود عائد کردہ پابندی (self-imposed discipline) کا طریقہ اختیار کرے۔ ۔ اس خود انضباطی کی روش کو قرآن اور حدیث میں لوجہ اللہ اور لاجل اللہ کہا گیا ہے۔ یہ عمل جو انسان سے مقصود ہے، وہ اتنا بڑا ہے کہ اس پر خالق نے سب سے بڑا انعام مقدر کیا ہے۔ ایک ایسا انعام جو کسی بھی دوسری مخلوق کو ملنے والا نہیں، یعنی ابدی جنت۔

اپنی تعمیر آپ

ہندستان ٹائمس (2 جنوری (1993) میں صفحہ 11 پر مسٹر جے ایس یادو کا مضمون ہے۔ اس کی سرخی مجھے پسند آئی۔ اس کے الفاظ یہ ہیں ــــ مصیبت کو مواقع میں تبدیل کر لینا : Turning adversity into an opportunity. یہی زندگی کی حقیقت ہے۔ اس دنیا میں مصیبتیں اور دشواریاں بہر حال پیش آتی ہیں۔ ان مصیبتوں اور دشواریوں کے خلاف احتجاج کرنے سے کوئی فائدہ نہیں، کرنے کا کام صرف یہ ہے کہ مصیبتوں کو مواقع کار میں تبدیل کر لیا جائے۔

مصیبت کو مواقع میں کیسے تبدیل کیا جاسکتا ہے؟ انسانی سماج کے اعتبار سے اس کا رہنمایانہ اصول قرآن کی ایک آیت میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے : وَإِنْ تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا لَا يَضُرُّكُمْ كَيْدُهُمْ شَيْئًا (3:120) یعنی اگر تم صبر کرو اور تقویٰ کی روش اختیار کرو تو دوسروں کی سازش تم کو کچھ بھی نقصان نہ پہنچائے گی۔

قرآن کی یہ آیت فطرت کے ایک قانون کو بتاتی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس دنیا میں سازش (conspiracy) کا ہونا، اصل مسئلہ نہیں ہے، بلکہ اصل مسئلہ صبر اور تقویٰ کا نہ ہونا ہے۔ جن لوگوں کے اندر صبر اور تقویٰ کی صفت موجود ہو، اُن کے لیے دوسروں کی سازش اور دشمنی غیر مؤثر ہو

‹ Previous page Next page › Contents of January 2023 All issues

Printed page