Al-Risala · November 2023 · page 45

ممکن سے آغاز

الرسالہ، نومبر ۲۰۲۳، صفحہ ۴۵

(صحیح البخاری، حدیث نمبر 3560)۔ یعنی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بھی دو میں سے کسی ایک چیز کا انتخاب کرنا ہوتا تو آپ ہمیشہ آسان کا انتخاب فرماتے ۔

اس سے معاملات زندگی کے بارے میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا ایک نہایت اہم طریقہ معلوم ہوتا ہے۔ وہ ہے، اختیار ایسیعنی موجود انتخابات (available options) میں نسبتاً آسان انتخاب (easier option) کو لے لینا اور مشکل انتخاب (harder option) کو چھوڑ دینا۔ اس اصول کا عملی نمونہ ہجرت جیسے اہم واقعہ میں نظر آتا ہے۔ اس وقت آپ کے لیے ایک انتخاب یہ تھا کہ آپ تمام اہل ایمان کو جمع کر کے مشرکین مکہ سے لڑ جائیں ۔ دوسرا انتخاب یہ تھا کہ آپ مکہ کو چھوڑ کر دوسری بستی میں چلے جائیں۔ آپ نے دوسرے انتخاب کو لے لیا، کیوں کہ پہلا انتخاب زیادہ مشکل تھا۔ اس میں دوسری مشکلات کے علاوہ انسانی جان کی ہلاکت یقینی تھی۔ حدیبیہ کا واقعہ اسلام میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس موقع پر آپ کے لیے ایک انتخاب یہ تھا کہ زبردستی مکہ میں داخل ہونے کی کوشش کریں۔ اس کے مقابلے میں دوسرا انتخاب یہ تھا کہ صلح کر کے واپس لوٹ کر مدینہ چلے جائیں۔ آپ نے دوسرے انتخاب کو لے لیا، کیوں کہ پہلے انتخاب کا انجام انتہائی سنگین تھا۔ اس میں جان و مال کا ضیاع ہوتا اور نفرتیں مزید بڑھ جاتیں۔

یہی معاملہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری زندگی کا ہے۔ آپ نے ہمیشہ اختیار ایسر کے اصول پر عمل فرمایا ہے، آپ نے کبھی اختیار اعسر کو اپنا طریقہ نہیں بنایا۔ انسانی تاریخ کا تجربہ بتاتا ہے کہ مشکل انتخاب کو لینے میں اپنی طاقت بے فائدہ طور پر ضائع ہوتی ہے۔ مسئلہ کی سنگینی میں اضافہ ہوتا ہے۔ ایک مسئلہ کے ساتھ بہت سے اور مسائل جڑ جاتے ہیں۔ وغیرہ۔

اس کے برعکس، آسان انتخاب کو لینا گویا ناممکن کو چھوڑ کر ممکن کا انتخاب کرنا ہے۔ ایسا انتخاب عمل کے نتیجہ خیز ہونے کی ضمانت ہے۔ وہ مسائل میں اضافہ کوروکنے والا ہے۔ اس میں ہر اگلا قدم آگے بڑھنے کے ہم معنی ہوتا ہے۔ وہ ایک مسئلہ کے ساتھ مزید مسائل پیدا کرنے کا سبب نہیں بنتا۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2023 All issues

Printed page