Al-Risala · November 2023 · page 44

ممکن سے آغاز

الرسالہ، نومبر ۲۰۲۳، صفحہ ۴۴

"There is no more astonishing career in history than that of the founder of this religion (Islam), and scarcely any man has more profoundly influenced the destinies of the world. He was, of course, favoured by circumstances, but he knew how to turn them to his purposes, and he faced adversity with the determination to wring success out of failure. While he could not have succeeded in another place or at another time, it is tolerably certain that no one could have succeeded at all." (E.E. Kellett. A Short History of Religions, London, 1933. pp. 333-34)

ای ای کلیٹ کے مذکورہ بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے، مولانا وحید الدین خاں صاحب نے اپنی کتاب مطالعہ سیرت میں لکھا ہے کہ مغربی مستشرق کا مذکورہ جملہ قاری کے لیے ایک نشان راہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کے ذریعہ سیرت کے قاری کو ایک متعین رہنمائی ملتی ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کو قرآن میں اسوہ حسنہ کہا گیا ہے (دیکھیے مطالعہ سیرت، صفحہ 8)۔ ایک بات یہ قابل غور ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم تمام زمانوں کے لیے قابل تقلید نمونہ ہیں۔ مگر آپ نے اپنا قول و فعل قدیم عرب کے ریفرنس میں بیان کیا ہے۔ بعد کے زمانے میں اس کو قابل عمل بنانے کے لیے جو طریقہ اختیار کیا جائے وہ اجتہاد کا طریقہ ہے۔ غالباً اسی وجہ سے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیروؤں کو اجتہاد پر ابھارا ہے، اور اجتہاد میں غلطی پر بھی ایک نیکی کی خوشخبری دی ہے (صحیح مسلم، حدیث نمبر 1716)۔

مولانا وحید الدین خاں صاحب نے جگہ جگہ سیرت سے سبق لینے کا طریقہ بتایا ہے، اور مثالوں سے اس کو واضح کیا ہے۔ تفصیل کے لیے ان کی کتابوں کا مطالعہ کیا جاسکتا ہے۔ مثلاً مطالعہ سیرت، وغیرہ۔ یہاں چند مثالوں سے میں یہ وضاحت کروں گی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت سے موجودہ زمانے میں کیسے رہنمائی حاصل کی جاسکتی ہے:

ممکن سے آغاز

ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا ایک اہم اصول ان الفاظ میں بیان کرتی ہیں: ما خُيِّرَ رَسولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَمْرَيْنِ إِلَّا أَخَذَ أَيْسَرَهُمَا

‹ Previous page Next page › Contents of November 2023 All issues

Printed page