Al-Risala · January 2023 · page 6

حدیث کا مطالعہ

الرسالہ، جنوری ۲۰۲۳، صفحہ ۶

حدیث کا مطالعہ

اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ صلح حدیبیہ کے زمانہ میں میری رضاعی ماں میرے پاس مدینہ آئیں۔ اس وقت وہ شرک پر تھیں اور قریش کی حلیف تھیں۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئی اور میں نے پوچھا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أُمِّي قَدِمَتْ عَلَيَّ وَهِيَ رَاغِبَةٌ، وَهِيَ مُشْرِكَةٌ، أَفَأَصِلُهَا؟ قَالَ: صِلِيهَا ( مسند احمد، حدیث نمبر 26994 )۔ یعنی، میں نے پوچھا کہ اے خدا کے رسول، میری مشرک ماں میرے پاس آئی ہے اور وہ مجھ سے کچھ چاہتی ہے۔ کیا میں انھیں صلہ رحمی کے طور پر کچھ دوں۔ آپ نے فرمایا کہ ہاں، ان کو دو۔

یہ حدیث بظاہر والدین کے ساتھ حسن سلوک کے بارے میں ہے، خواہ وہ مشرک اور کافر ہی کیوں نہ ہو۔ حدیث کی کتابوں میں وہ اسی طرح کے باب کے تحت لکھی ہوئی ملے گی۔ مگر کسی حدیث کو سمجھنے کے لیے صرف اس کے "ترجمہ باب" کو دیکھنا کافی نہیں۔ اسی کے ساتھ حدیث کے متن پر گہرائی کے ساتھ غور کرنا چاہیے۔ اس کے بعد ہی آدمی کے اوپر اس کے پورے معانی کھل سکتے ہیں۔ اس حدیث سے حقوق والدین کے مسئلہ کے علاوہ مزید یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ یہ اس زمانہ کا واقعہ ہے جب کہ قریش اور مسلمانوں کے درمیان خاتمہ جنگ کا معاہدہ ہو گیا تھا۔ اس کے نتیجہ میں یہ ہوا کہ مکہ کے مشرکین مدینہ آنے لگے اور مدینہ کے مسلمان مکہ جانے لگے۔ عقل عام یہ سمجھنے کے لیے کافی ہے کہ اس آمدورفت میں صرف صلہ رحمی" کا مسئلہ سامنے نہیں آیا۔ بلکہ اسی کے ساتھ یہ ہوا کہ آپسی گفت و شنید بھی ہونے لگی۔ آبائی مذہب اور پیغمبرانہ مذہب کا تقابل کیا جانے لگا۔ خود ساختہ مذہب اور الہامی مذہب کا فرق لوگوں پر واضح ہونے لگا۔ اس طرح یہ ہوا کہ صلح حدیبیہ کی تدبیر نے جنگی ماحول کو پرامن دعوتی ماحول میں تبدیل کر دیا۔ مکہ اور مدینہ میں جہاں اس سے پہلے تلواروں کی جھنکار سنائی دیتی تھی، وہاں مذہبی انٹرایکشن ہونے لگا۔ اس انٹرایکشن کا جو مثبت نتیجہ ظاہر ہوا، اسلام کی ابتدائی تاریخ میں اس کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2023 All issues

Printed page