تغیر منکر
الرسالہ، جنوری ۲۰۲۳، صفحہ ۷
تغیر منکر
حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: مَنْ رَأَىٰ مُنْكَرًا فَاسْتَطَاعَ أَنْ يُغَيِّرَهُ بِيَدِهِ فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهِ (سنن ابوداؤد، حدیث نمبر 4340) ۔ یعنی تم میں سے جو شخص منکر کو دیکھے اور وہ اس کو اپنے ہاتھ سے بدلنے کی استطاعت رکھتا ہو تو وہ اسے اپنے ہاتھ سے بدل دے۔ اب ایک اور حدیث دیکھیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ سے فرمایا کہ قریش نے جب کعبہ کی دوبارہ تعمیر کی تو انھوں نے اس کو ابراہیمی بنیاد سے گھٹا کر بنایا۔ حضرت عائشہ نے کہا کہ اے اللہ کے رسول! آپ اس کو ابراہیمی بنیاد کی طرف کیوں نہیں لوٹا دیتے۔ آپ نے فرمایا کہ اگر قریش ابھی نئے نئے مسلمان نہ ہوئے ہوتے تو میں ایسا کر دیتا (صحیح البخاری ، حدیث نمبر 1584)۔ ان دونوں حدیثوں کا تقابلی مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ تغیر منکر کا حکم مطلق معنوں میں نہیں ہے بلکہ وہ ایک مقید حکم ہے۔ اگر وہ کوئی مطلق حکم ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ضرور ایسا کرتے۔ یعنی مشرکین مکہ نے کعبہ کی تعمیر ثانی میں جو تبدیلی کی تھی اس کو ختم کر کے دوبارہ اس کو حضرت ابراہیم کی تعمیری بنیاد پر کھڑا کرتے۔
اس تقابلی مطالعہ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ تغیر منکر میں صرف ’’استطاعت‘‘ ہی کی شرط نہیں ہے بلکہ حکمت کی شرط بھی ہے۔ فتح مکہ کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عرب کے حکمراں ہوچکے تھے۔ آپ کو یہ استطاعت حاصل ہو چکی تھی کہ آپ کعبہ کوڈھاکر اسے ابراہیمی بنیاد پر تعمیر کر دیں۔ مگر آپ نے استطاعت کے باوجود ایسا نہیں کیا۔ کیوں کہ حدیث کے مطابق، ایسا کرنا حکمت کے خلاف تھا۔ تغییر منکر کے حکم کا یہ مطلب نہیں ہے کہ آدمی جب کسی منکر کو دیکھے تو فوراً اس کے خلاف اقدام شروع کر دے۔ اجتماعی زندگی میں کوئی اقدام صرف برائی کو دیکھ کر نہیں کیا جاتا بلکہ حالات کو دیکھ کر کیا جاتا ہے۔ مومن پر لازم ہے کہ جب وہ کسی منکر کو دیکھے تو اس کے خلاف اقدام سے پہلے یہ سوچے کہ میرے اندر اس کی حقیقی استطاعت ہے یا نہیں، اور اگر بظاہر استطاعت ہو تب بھی ایسا کرنا حکمت کے مطابق ہے یا نہیں۔ استطاعت اور حکمت کی دو گونہ شرط کا لحاظ کیے بغیر تغییر منکر کے لیے اٹھنا فساد ہے، نہ کہ اسلامی حکم کی تعمیل۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 2023 All issues