امت کا امتحان
الرسالہ، مارچ ۲۰۲۳، صفحہ ۷
امت کا امتحان
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا مشن دعوت الی اللہ کا مشن تھا۔ اس کام کی مطلوب انجام دہی کے لیے آپ کو یہ حکم دیا گیا کہ آپ ہرگز رُكُون نہ کریں۔ اس سلسلہ میں قرآن کی آیت یہ ہے : وَلَا تَرْكَنُوا إِلَى الَّذِينَ ظَلَمُوا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ وَمَا لَكُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ مِنْ أَوْلِيَاءَ ثُمَّ لَا تُنْصَرُونَ (11:113)۔ یعنی اور ان کی طرف نہ جھکو جنھوں نے ظلم کیا، ورنہ تم کو آگ پکڑلے گی اور اللہ کے سوا تمہارا کوئی مددگار نہیں، پھر تم کہیں مدد نہ پاؤگے۔
رکون کے معنی ہیں جھکاؤ (tilt)، الگ ہونا۔ یعنی قوم کے تقاضے، لوگوں کا دباؤ، حالات کی مصلحت، اس قسم کی مختلف چیزیں داعی کے اندر رکون (دعوت سے دوری) کا ذہن پیدا کرتی ہیں۔ لیکن پیغمبر کو سختی کے ساتھ حکم تھا کہ وہ کسی بھی دباؤ کا اثر قبول نہ کرے۔ وہ سختی کے ساتھ دعوت کے بتائے ہوئے اصولوں پر قائم رہتے ہوئے اپنا دعوتّی مشن جاری رکھے، وہ حالات کے اثر سے جھکاؤ کا شکار نہ ہو۔ دعوت کے مشن میں استقامت کا یہ اصول جس طرح پیغمبر کے لیے تھا اسی طرح پیغمبر کی امت کے لیے بھی ہے۔ اس معاملہ میں امت اپنے پیغمبر کی نمائندہ ہے اور نمائندہ کو یہ حق نہیں ہوتا کہ وہ اس معاملہ میں کسی بھی جھکاؤ کو قبول کر کے اصل مشن میں کسی قسم کی تبدیلی کرے۔ اگر وہ تبدیلی کا ارتکاب کرے تو اس کے لیے بھی یقینی طور پر اسی پکڑ کا اندیشہ ہے جس کا ذکر اوپر کی آیت میں پیغمبر کے لیے کیا گیا۔ دعوت الی اللہ کے کام کے لیے یہ لازمی شرط ہے۔ اس شرط کے بغیر دعوت الی اللہ کا کام درست طور پر انجام نہیں دیا جاسکتا، اور جب دعوت الی اللہ کا کام درست طور پر انجام نہ دیا جائے تو وہ مقصد ادا نہیں ہوتا جو دعوت الی اللہ کا مطلوب ہے، یعنی قوموں پر اللہ کی حجت ادا نہیں ہوتی (النساء، 4:165)۔
دعوت الی اللہ کا کام ایک مختلف نوعیت کا کام ہے۔ اس میں دوسرے تمام تقاضوں کو الگ رکھنا پڑتا ہے۔ مثلاً قومی تقاضے، مادی تقاضے، عوامی تقاضے، وغیرہ۔ ان تقاضوں سے بچتے ہوئے
‹ Previous page Next page › Contents of March 2023 All issues