امت کا امتحان
الرسالہ، مارچ ۲۰۲۳، صفحہ ۸
دعوت کا کام کرنا بلا شبہ ایک سخت کام ہے۔ لیکن امت کو ہر حال میں یہ کرنا ہے کہ وہ دوسرے تمام تقاضوں کا اثر قبول نہ کرتے ہوئے اس خدائی مشن کو جاری رکھے ۔ یہی امت کا امتحان ہے ۔ اس امتحان میں پورا ہونا امت محمدی کو امت محمدی بناتا ہے اور اگر امت اس امتحان میں ناکام رہے تو خود یہ امر مشتبہ ہو جائے گا کہ وہ اللہ کے یہاں امت محمدی کی حیثیت سے قبول کی جائے گی یا نہیں۔ دریافت کی عظمت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مکی دور کا واقعہ ہے۔ آپ کے چچا ابو طالب نے ایک بار آپ کو بلایا اور کہا کہ قوم کے ساتھ مصالحت کا انداز اختیار کرو۔ اس کے جواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یا عَمِّ لَوْ وُضِعَتِ الشَّمْسُ فِي يَمِينِي وَالْقَمَرَ فِي يَسَارِي مَا تَرَكْتُ الْأَمْرَ (سیرۃ ابن اسحاق ، صفحہ 154)۔ یعنی اے میرے چچا، اگر یہ لوگ ایسا کریں کہ وہ میرے دائیں ہاتھ میں سورج رکھ دیں اور میرے بائیں ہاتھ میں چاند رکھ دیں ، تب بھی میں اس کام کو نہیں چھوڑوں گا۔ اس واقعے سے ایک نہایت اہم اصول معلوم ہوتا ہے، وہ یہ کہ جتنی بڑی دریافت، اتنی بڑی عزیمت (determination) ۔ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا مذکورہ قول بھی ایک سنتِ رسول ہے۔ وہ ایک واقعے کی صورت میں ایک عظیم حقیقت کو بتاتا ہے، وہ یہ کہ ایک بڑی دریافت تمام دوسری چیزوں کو چھوٹا کر دیتی ہے۔ ایسا آدمی کسی قسم کے رکون (ہود، 11:113) کا تحمّل نہیں کر سکتا۔ اگر آدمی ایک ایسی حقیقت پر کھڑا ہوا ہو جو اس کے لیے سورج اور چاند سے بھی زیادہ بڑی ہے تو ہر دوسری چیز اس کی نظر میں چھوٹی ہو جائے گی۔ ایسا آدمی کسی بھی عذر کو لے کر اپنے موقف کے معاملے میں مصالحت کا انداز اختیار نہیں کر سکتا۔ اس کے برعکس، اگر آپ کسی شخص کے اندر یہ بات پائیں کہ وہ قوم کے اندر برائی دیکھتا ہے، لیکن وہ اپنے مادی انٹرسٹ کی بنا پر اس کی مذمت نہیں کرتا تو سمجھ لیجیے کہ اس کو دین کے نام پر جو چیز ملی ہے، وہ اس کے نزدیک عملاً اتنی اہم نہیں کہ مادی مصلحت اس کے لیے قربان کر دی جائے۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2023 All issues