زوال کاظاہرہ
الرسالہ، مارچ ۲۰۲۳، صفحہ ۱۵
زوال کاظاہرہ
مومن کون ہے۔ قرآن کے مطابق ، مومن وہ ہے جس کا یہ حال ہو کہ جب اس کے سامنے اللہ کا ذکر کیا جائے تو اس کی ہیبت سے بندۂ مومن کا دل دہل اُٹھے۔ جب اس کو قرآن کی آیتیں سنائی جائیں تو اس کو اضافۂ ایمان کی غذا ملنے لگے۔ اس کے لیے خدا ایک ایسی لازوال ہستی بن جائے جس پر وہ کامل بھروسہ کر سکتا ہو (8:2)۔ ایمان ، خدا اور بندے کا مقام اتصال ہے۔ اس اتصال (communion) کا حقیقی طور پر وقوع میں آناہی ان کیفیات کے ظہور میں آنے کی یقینی ضمانت ہے۔ پاور ہاؤس اور بلب کا ملاپ اگر نتیجہ پیدا کیے بغیر نہیں رہتا تو خدا اور بندے کا ملاپ کیوں کر نتیجہ سے خالی رہ جائے گا۔ مگر موجودہ زمانہ میں اسلام کی ایسی عجیب و غریب قسم وجود میں آئی ہے جس میں سب کچھ نظر آتا ہے مگر وہی چیز نہیں جس کو حقیقتاً "اسلام" کہا گیا ہے۔ ہمارے زمانے کے عجائب میں یہ عجوبہ سب سے زیادہ حیرت ناک ہے کہ ہر طرف اسلام کی دھوم مچی ہوئی ہے، مگر حقیقی اسلام کا کہیں وجود نہیں نمازیوں کی تعداد بڑھ رہی ہے ، مگر "صلاۃ خشوع" سے مسجدیں خالی ہیں۔ اسلامی مدرسوں کی عمارتیں بلند ہو رہی ہیں مگر وہ لوگ نہیں پیدا ہو رہے ہیں جو اپنی زندگیوں میں بھی اسلام کی تعمیر کی ضرورت محسوس کرتے ہوں۔ اسلام کے نعروں سے فضائیں گونج رہی ہیں مگر اس اسلام کا وجود نہیں جو تنہائیوں میں آدمی کو خدا کی یاد میں بے چین کر دے۔ دوسروں کی پیٹھ پر اسلام کے نام پر کوڑے لگ رہے ہیں مگر اپنی "پیٹھ" کو خدا کے حوالے کرنے والا کوئی نہیں۔ اسلامی تقریروں کی بہار آرہی ہے مگر خدا کی زمین ایسے لوگوں سے خالی ہے جن کو خدا کے خوف نے بے زبان کر رکھا ہو۔ "احتساب کائنات" کے ہنگامے ہر طرف برپا ہیں مگر احتساب نفس کی ضرورت کسی کو محسوس نہیں ہوتی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلام کے جسم سے اس کی روح نکال دی گئی ہے۔ اور خود ساختہ طور پر اسلام کا ایسا ایڈیشن تیار کر لیا گیا ہے جو بظاہر اسلام ہے مگر وہی چیز اس میں موجود نہیں جو خدا اور رسول کے نزدیک اسلام کا اصل مقصود تھی۔
اس کو سمجھنے کے لیے یہود کی تاریخ کا مطالعہ کیجیے۔ کیوں کہ جو قوم میں کتاب الہی کی حامل ہوں،
‹ Previous page Next page › Contents of March 2023 All issues