Al-Risala · March 2023 · page 16

زوال کاظاہرہ

الرسالہ، مارچ ۲۰۲۳، صفحہ ۱۶

ان کے بگاڑ کے اسباب ہمیشہ یکساں ہوتے ہیں۔ یہود کی بابت قرآن میں کہا گیا ہے کہ بعد کے دور میں ان کے اندر قساوت (سخت دلی) آگئی (2:74)۔ قساوت کی حالت یہ نہیں ہے کہ دین اپنی صورت کے اعتبار سے باقی نہ رہے۔ ایسا کبھی نہیں ہوتا۔ دین کی صورتیں ہمیشہ مکمل طور پر باقی رہتی ہیں البتہ قوم کے اندر سے ان کی روح نکل جاتی ہے۔ قرآن کے مطابق، قساوت دراصل ذکر اور خشیت کے خاتمہ کا نام ہے (23-39:22) ، نہ کہ ظواہر دین کے خاتمہ کا۔

قوم کے اندر یہ بگاڑ انکار دین کے نام پر نہیں آتا، بلکہ اقرار دین کے ساتھ آتا ہے۔ قرآن کے بیان کے مطابق شیطان ان کو ایسی ایسی تاویلات سمجھاتا ہے جس کی روشنی میں ان کو اپنا انحراف حقیقی دین نظر آنے لگے، اور حقیقی دین بے دینی۔ وہ اپنے اعمال کو خوبصورت الفاظ میں بیان کرکے اس کو اپنے لیے مزین کر لیتے ہیں (فاطر ، 8: اس تزئین کی سب سے زیادہ معروف صورت وہ ہے جس کو قرآن میں يُحَرِّفُونَ الْكَلِمَ عَن مَّوَاضِعِهِ (13: فرمایا گیا ہے۔ یعنی، کلام میں تحریف (distortion) کرنا۔ کلام کو اس کے ومحل سے پھیرنے کا مطلب یہ ہے کہ کلام کا ایسا مطلب ومعنی بیان کیا جائے جو متکلم کی مراد نہ ہو۔ گویا یہود کی تزئین یہ تھی کہ وہ اپنی قساوت، بالفاظ دیگر اپنی بے روح دین داری کو لفظی تاویلات سے ایسا خوش نما بنا لیتے تھے کہ وہی اصل دین نظر آنے لگے۔ تحریف (لفظ کو اس کے موقع محل سے پھیرنے) کی صورت عام طور پر وہی ہوتی ہے جس کو موجودہ زمانہ میں غلط تعبیر (misinterpretation) کہا جاتا ہے۔ اس معاملہ کو سمجھنے کے لیے ایک مثال لیجیے۔ یہود کو یہ خبر دی گئی تھی کہ تم کو تمام اقوام عالم پر فضیلت دی گئی ہے (البقرہ، 2:47)۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ اللہ نے تم کو دنیا میں اپنی نمائندگی کے لیے چن لیا ہے۔ یعنی تم کو اس مقام پر کھڑا کیا ہے کہ تم خدائی تعلیمات کے حامل بنو اور اس کو خدا کی طرف سے دوسری اقوام تک پہنچاؤ۔ اپنے اصل مفہوم میں یہ فضیلت بر بنائے ذمہ داری تھی۔ مگر یہود نے اس کو نسلی فضیلت کے معنی میں لے لیا۔ یہود کی نسل میں پیدا ہونا اس بات کے لیے کافی بن گیا کہ آدمی اس فضیلت کا مستحق ہو اور خدا کے انعامات اس کو حاصل ہوں۔ اس تحریف کو قرآن میں ان الفاظ میں واضح کیا گیا ہے: وَقَالُواْ كُونُوا هُودًا أَوْ

‹ Previous page Next page › Contents of March 2023 All issues

Printed page