Al-Risala · March 2023 · page 18

تین ادوار

الرسالہ، مارچ ۲۰۲۳، صفحہ ۱۸

تین ادوار

انسان کی زندگی تین ادوار میں بٹی ہوئی ہے ــــ بچپن، جوانی اور بڑھاپا ۔ بچپن میں آدمی خود اس قابل نہیں ہوتا کہ اپنے مستقبل کی پلاننگ کرے ۔ ماں باپ اکثر لاڈ پیار میں بچپن کے دور کو ضائع کر دیتے ہیں ۔ خالق انسانوں کو پیدا کر رہا ہے، تا کہ وہ زندگی میں کوئی رول ادا کریں۔ مگر صحیح پلاننگ نہ ہونے کی وجہ سے بیشتر لوگ اپنی زندگی کے امکان کو اویل نہیں کر پاتے۔ وہ نامکمل زندگی گزار کر مر جاتے ہیں۔

زندگی رب العالمین کی طرف سے ایک قیمتی تحفہ ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ اس تحفہ کو بھر پور طور پر استعمال کرے ۔ وہ اس سے اپنے آپ کو بچائے کہ وہ رب العالمین کی طرف سے آئی ہوئی زندگی کو کھو دے ۔ انسان جب زندگی کو وجود میں نہیں لاسکتا تو اس کو حق بھی نہیں کہ وہ ملی ہوئی زندگی کو ضائع کر دے۔

اصل یہ ہے کہ ہر انسان کو موجودہ دورِ حیات میں بھر پور طور پر یہ موقع حاصل ہوتا ہے کہ درست پلاننگ کے ذریعے وہ اپنے منصوبۂ تخلیق کے مطابق کامیاب کر سکے۔ اس کی زندگی واقعات سے بھری ہوئی ہے۔ ہر انسان کی زندگی میں ایسے تجربات ہوتے ہیں، جو دوسرے انسان کی زندگی میں نہیں ہوتے ہیں۔ گویا کہ ہر انسان اپنے ساتھ ایک پوری لائبریری لیے ہوئے ہے۔ حقیقت کے اعتبار سے زندگی کی یہ لائبریری ٹیسٹ کا پیپر ہے۔ اس کے ذریعے سے انسان کو اپنے لیے ابدی کامیابی لکھنی ہے یا ابدی ناکامی۔

قیامت وہ دن ہے، جب کہ ہر انسان کی لکھی یا بغیر لکھی کتابیں کھل کر سامنے آ جائیں گی۔ اس وقت ہر انسان یہ جانے گا کہ اس نے اپنی زندگی میں کیا کھویا، اور کیا پایا ۔ اس نے کس موقع کو اویل کیا، اور کس موقع کو ضائع کر دیا۔ اس صورتِ حال کا سب سے زیادہ سنگین پہلو یہ ہوگا کہ کوئی بھی انسان اس پوزیشن میں نہ ہوگا کہ وہ اپنی زندگی کی کہانی کو ری رائٹ (re-write) کرے ۔ کامیاب انسان وہ ہے، جو زندگی کی اس نوعیت کو سمجھے، اور اس کے مطابق زندگی گزارے۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2023 All issues

Printed page