Al-Risala · March 2023 · page 17

زوال کاظاہرہ

الرسالہ، مارچ ۲۰۲۳، صفحہ ۱۷

نَصْرَىٰ تَهْتَدُواْ قُلْ بَلْ مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ (2:135) ۔ یعنی، وہ کہتے ہیں کہ یہودی یا نصرانی ہو جاؤ تو ہدایت یاب ہو جاؤ گے۔ کہہ دو نہیں ۔ بلکہ ہم پیروی کرتے ہیں دین ابراہیمی کی اور وہ شرک کرنے والوں میں نہ تھا۔

گو یا ملت ابراہیم کا فرد وہ ہے جو شرک سے اپنے کو بچائے اور سچی توحید پر قائم ہو۔ محض نسل ابراہیمی میں ہونے سے کوئی ملت ابراہیمی کا فرد نہیں بن جاتا۔ یہود کو جو" فضیلت" دی گئی وہ اپنے اصل مفہوم میں ایک سنگین ذمہ داری کو یاد دلانے والی چیز تھی مگر موقع ومحل سے ہٹانے کے بعد وہ بے خوفی کا محرک بن گئی۔ اللہ کا ایک حکم جو خشیت پیدا کرنے کا سبب بنتا، وہ قساوت پیدا کرنے والا بن گیا۔ یہ تھی یہود کی تحریف۔ اپنی اس قسم کی تحریفوں کے ذریعہ انہوں نے دین خداوندی کو ایک بے روح ڈھانچہ بنا کر رکھ دیا تھا۔

حدیث رسول میں پیشین گوئی کی گئی ہے کہ مسلمان ضرور پچھلی امتوں کے طریقوں کا اتباع کریں گے۔ قدم بہ قدم، یہاں تک کہ اگر وہ کسی گوہ کے بل میں داخل ہوں گے تو یہ امت بھی وہاں داخل ہو جائے گی (صحیح البخاری، حدیث نمبر 7320)۔ چنانچہ مسلمانوں میں آج وہ سارے انحراف دیکھے جاسکتے ہیں جو سابق اہل کتاب میں پائے جاتے تھے۔ جس طرح یہود نے سمجھ لیا تھا کہ وہ اللہ کے خصوصی بندے ہیں اور وہ ضرور نجات پائیں گے۔ اسی طرح ہم نے بھی یہ عقیدہ قائم کر لیا کہ ۔ مسلمان خیر امت ہیں اور وہ سب کے سب مرحوم و مغفور ہیں۔

یہ بات بجائے خود صد فیصد درست ہے مگر وہ مسلم امت کے بارے میں ہے، نہ کہ کسی مسلم نسل کے بارے میں۔ امت کونسل کے معنی میں لینا بلا شبہ يُحَرِّفُونَ الْكَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِهِ (4:46) کا مصداق ہے، یعنی کلام کو اس کے اصل منشا سے بدل دینا۔ اپنے نظریاتی مفہوم میں یہ بات ذمہ داری کا احساس دلاتی ہے۔ مگر جب اس کو نسلی مفہوم میں لیا گیا تو وہ صرف قلبی قساوت اور بےخوفی کا محرک بن کر رہ گئی۔ اسلام کا نشانہ یہ ہے کہ وہ انسان کو تربیت دے کر اس قابل بنائے کہ وہ اپنی ذاتی فکر (self-thinking) کے ذریعہ اپنے اندر مطلوب ربانی شخصیت کی تعمیر کرے۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2023 All issues

Printed page