Al-Risala · March 2023 · page 21

مذہبی رواداری ، تالیف قلب

الرسالہ، مارچ ۲۰۲۳، صفحہ ۲۱

مطالعۂ حدیث شرح مشکوٰۃ المصابیح معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ اے خدا کے رسول مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے جو مجھ کو جنت سے قریب کر دے اور مجھ کو جہنم سے دور کر دے۔ آپ نے فرمایا کہ تم نے بہت بڑی بات پوچھی ہے۔ البتہ وہ آسان ہے جس کے لیے خدا اسے آسان کر دے: تم اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراؤ۔ اور تم نماز قائم کرو اور تم زکاۃ ادا کرو۔ اور تم رمضان کے روزے رکھو اور تم بیت اللہ کا حج کرو۔ پھر آپ نے فرمایا: کیا میں تم کو خیر کے دروازے نہ بتاؤں۔ روزہ ڈھال ہے۔ اور صدقہ گناہ کو بجھاتا ہے جس طرح سے پانی آگ کو بجھاتا ہے۔ اور آدمی کا رات کے وقت نماز پڑھنا۔ پھر آپ نے قرآن کی (دو) آیتیں تلاوت کیں: ان کے پہلو بستروں سے الگ رہتے ہیں۔ وہ اپنے رب کو پکارتے ہیں ڈر سے اور امید سے۔ اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے، وہ اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔ تو کسی کو خبر نہیں کہ ان لوگوں کے لیے ان کے اعمال کے صلہ میں آنکھوں کی کیا ٹھنڈک چھپا کر رکھی گئی ہے (32:16-17)۔ پھر آپ نے فرمایا میں تم کو نہ بتاؤں تمام چیزوں کا سر اور اس کا ستون اور اس کی چوٹی۔ میں نے کہا کہ ہاں، اے خدا کے رسول۔ آپ نے فرمایا کہ معاملہ کا سر اسلام ہے اور اس کا ستون نماز ہے اور اس کی چوٹی جہاد ہے۔ پھر آپ نے فرمایا کہ کیا میں تم کو ان سب کی اصل نہ بتا دوں۔ میں نے کہا کہ ہاں، اے خدا کے رسول۔ پھر آپ نے اپنی زبان پکڑی اور کہا: اس سے اپنے آپ کوروکو۔ میں نے کہا کہ کیا کہ کیا ہم پکڑے جائیں گے اس پر جو ہم بولتے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ اے معاذ تم کو تمہاری ماں گم کرے۔ لوگوں کو جہنم میں، اوندھے منہ، ان کی زبان سے نکلا ہوا بے فائدہ کلام ہی گرائے گا (سنن الترمذی، حدیث نمبر 2616 ؛ سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 3973 ؛ مسند احمد، حدیث نمبر 10164)۔ زبان کو آپ نے کیوں اتنا زیادہ اہمیت دی۔ زبان آدمی کے پورے وجود کا خلاصہ ہے، آدمی کو چاہیے کہ زبان کی حفاظت کا آخری حد تک اہتمام کرے۔ زبان آدمی کی اندرونی شخصیت کی

‹ Previous page Next page › Contents of March 2023 All issues

Printed page