Al-Risala · March 2023 · page 22

مذہبی رواداری ، تالیف قلب

الرسالہ، مارچ ۲۰۲۳، صفحہ ۲۲

نمائندہ ہے۔ جو آدمی غیر ذمہ دارانہ انداز میں کلام کرے اور بے روک ٹوک اپنی زبان کو دوسروں کے خلاف استعمال کرے وہ اپنے اس عمل سے اس بات کا ثبوت دیتا ہے کہ اس کے اندر ایک ایسی شخصیت چھپی ہوئی ہے جو اللہ کے خوف اور آخرت کے اندیشے سے خالی ہے۔ ایسا انسان ہر دوسری غلطی کو کرنے کے لیے بھی جری رہے گا۔

اس کے برعکس، جو آدمی اپنی زبان کے استعمال میں محتاط ہو۔ جو اپنی زبان سے بھلائی اور انصاف کی بات بولے ایسا آدمی اپنے اس عمل سے بتاتا ہے کہ وہ ایک صالح انسان ہے۔ وہ اپنے آپ کو خدا کی ماتحتی میں دیے ہوئے ہے۔ وہ اپنے آپ کو خدا کے حکم کا پابند بنائے ہوئے ہے۔ زبان انسانی شخصیت کی علامت ہے جو آدمی زبان کے استعمال کے معاملہ میں خدا کی مرضی کا پابند ہو وہ اپنی زندگی کے دوسرے معاملات میں بھی یقینی طور پر خدا کی مرضی کا پابند ہوگا۔ وہ ہر معاملہ میں خدا کا مطلوب بندہ بنا ہوا ہوگا۔

ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے اللہ کے لیے محبت کی اور اللہ کے لیے ناپسند کیا اور اس نے اللہ کے لیے دیا اور اللہ کے لیے روکا تو اس نے ایمان کامل کرلیا (سنن ابی داؤد، حدیث نمبر 4681)۔ الترمذی نے اس حدیث کو تقدیم و تاخیر کے ساتھ معاذ بن انس سے نقل کیا ہے۔ اس کے آخر میں یہ الفاظ ہیں: اس آدمی نے اپنا ایمان کامل کرلیا (سنن الترمذی، حدیث نمبر 2521)۔

ایمان کا آغاز خدائی حقیقتوں کے اعتراف سے ہوتا ہے۔ یہ اعتراف اگر سچا ہے تو اس کے لازمی نتیجے کے طور پر آدمی کی زندگی میں انقلاب آ جاتا ہے۔ اس کی پسند اور ناپسند پر خدا کا رنگ چھا جاتا ہے (البقرہ، 2:138)۔ اس کے تعلقات اور اس کے لین دین خدائی احکام کے تابع ہو جاتے ہیں۔ آدمی کی پسند اور ناپسند یا اس کے دینے یا نہ دینے پر ایمان کا اثر جتنا کم ہوگا اتنا ہی اس کا ایمان نامکمل سمجھا جائے گا۔

ایمان کے معاملے میں اصل مطلوب چیز حق کا اتباع ہے۔ مومن وہ ہے جو حق کو شعوری طور پر دریافت کرے اور پھر عملاً اُس پر قائم ہو جائے ۔ مگر یہ فیصلہ کوئی سادہ فیصلہ نہیں۔ جب ایک

‹ Previous page Next page › Contents of March 2023 All issues

Printed page