Al-Risala · January 2024 · page 11

سفرِ معرفت

الرسالہ، جنوری ۲۰۲۴، صفحہ ۱۱

سفرِ معرفت

انسان کے ذہن میں پیدائش کے بعد شعوری یا غیر شعوری طور پر سب سے پہلے جو خیال آتا ہے، وہ یہ ہے کہ انسان کا خالق کون ہے۔ اسی تصور کو لے کر تقریباً پانچ ہزار سال پہلے فلسفیانہ غور و فکر کا آغاز ہوا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ دنیا کے تمام بڑے بڑے دماغ اس غور و فکر میں مشغول ہوئے۔ لیکن عجیب بات ہے کہ فلسفیانہ غور و فکر کسی فلسفی کو اپنے سوال کے جواب تک نہ پہنچا سکا۔ برطانی فلسفی برٹرینڈ رسل (1970–1872ء) ایک مشہور فلسفی تھا۔ وہ اپنی ساری عمر اس موضوع کے مطالعے میں مشغول رہا۔ مگر ساری عمر کے مطالعے کے باوجود اس کو اپنے سوال کا جواب نہیں ملا۔ اس کے ایک کمنٹیٹر نے اس کے بارے میں درست طور پر لکھا ہے:

"Bertrand Russell was a philosopher of no philosophy."

حقیقت یہ ہے کہ یہ بات تمام فلسفیوں کے بارے میں درست ہے۔ ہر فلسفی عملاً فلاسفر آف نو فلسفی تھا۔ ہر فلسفی کا موضوع یہ تھا کہ وہ سچائی کیا ہے، اس سوال کا جواب فلسفیانہ فریم ورک میں معلوم کرے۔ مگر کوئی بھی فلسفی اپنی اس تلاش میں کامیاب نہیں ہوا۔ سچائی کا فلسفیانہ جواب ہزاروں سال کے تلاش کے باوجود نا معلوم رہا۔

ایسا کیوں ہوا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ انسان نے سوال کو تو جانا۔ لیکن وہ اس سے بے خبر رہا کہ اس سوال کا جواب پانے کے لیے صحیح طریق مطالعہ (methodology) کیا ہے۔ حالاں کہ جتنی اہمیت کسی سوال کی ہے۔ اتنی ہی اہمیت اس سوال کا جواب پانے کے لیے صحیح طریق مطالعہ (methodology) کی ہے۔

راقم الحروف کو اس سوال کا جواب قرآن میں ملا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ذریعے اللہ رب العالمین نے اس میتھڈالوجی کو اشارہ کی زبان میں بتا دیا تھا۔ لیکن کوئی عالم یا فلسفی اس کو متعین طور پر جان نہ سکا۔ قرآن کا جواب سورہ الاعراف میں اس طرح ملتا ہے۔ پیغمبر موسیٰ مصر سے نکلنے کے بعد جب صحرائے سینا میں پہنچے تو وہاں ماؤنٹ سینائی (Mount Sinai)

‹ Previous page Next page › Contents of January 2024 All issues

Printed page