Al-Risala · January 2024 · page 12

سفرِ معرفت

الرسالہ، جنوری ۲۰۲۴، صفحہ ۱۲

کے مقام پر ان پر ایک تجربہ گزرا۔ پیغمبر موسیٰ کے اوپر یہ تجربہ ایک اندازے کے مطابق پندرھویں صدی قبل مسیح کے نصف ثانی میں گزرا۔ اس واقعے کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں آیا ہے: وَلَمَّا جَاءَ مُوسَىٰ لِمِيقَاتِنَا وَكَلَّمَهُ رَبُّهُ قَالَ رَبِّ أَرِنِي أَنْظُرْ إِلَيْكَ قَالَ لَنْ تَرَانِي وَلَكِنِ انْظُرْ إِلَى الْجَبَلِ فَإِنِ اسْتَقَرَّ مَكَانَهُ فَسَوْفَ تَرَانِي فَلَمَّا تَجَلَّى رَبُّهُ لِلْجَبَلِ جَعَلَهُ دَكًّا وَخَرَّ مُوسَىٰ صَعِقًا فَلَمَّا أَفَاقَ قَالَ سُبْحَانَكَ تُبْتُ إِلَيْكَ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُؤْمِنِينَ (7:143) ۔ یعنی اور جب موسیٰ ہمارے وقت پر آگیا اور اس کے رب نے اس سے کلام کیا تو اس نے کہا، مجھے اپنے کو دکھادے کہ میں تجھ کو دیکھوں۔ فرمایا، تم مجھ کو ہرگز نہیں دیکھ سکتے۔ البتہ پہاڑ کی طرف دیکھو، اگر وہ اپنی جگہ قائم رہ جائے تو تم بھی مجھ کو دیکھ سکو گے۔ پھر جب اس کے رب نے پہاڑ پر اپنی تجلی ڈالی تو اس کو ریزہ ریزہ کر دیا، اور موسیٰ بے ہوش ہو کر گر پڑا۔ پھر جب ہوش آیا تو بولا، تو پاک ہے، میں نے تیری طرف رجوع کیا اور میں سب سے پہلے ایمان لانے والا ہوں۔

پیغمبر موسیٰ کے اس تجربے میں ایک علمی حقیقت کو بتایا گیا ہے۔ وہ یہ کہ انسان موجودہ دنیا میں خدا کو براہ راست طور پر نہیں دیکھ سکتا۔ اللہ رب العالمین کو دیکھنے کی صورت صرف ایک ہے۔ وہ یہ کہ انسان مخلوقات میں غور وفکر کر کے استنباط (inference) کے بذریعہ اس کے خالق کی دریافت کرے۔ یہی وہ نکتہ ہے، جس کی وجہ سے علم حقیقت کا سفر اپنی منزل تک نہ پہنچ سکا۔ خالق اور مخلوق دونوں ایک نہیں ہیں، بلکہ دونوں مکمل طور پر ایک دوسرے سے الگ ہیں۔ لہٰذا اس معاملے میں صحیح میتھڈالوجی صرف یہ ہے کہ انسان پہلے یہ دریافت کرے کہ خالق اور مخلوق دونوں الگ الگ ہیں، اور پھر مخلوق یعنی کائناتی نشانیوں میں غور وفکر کر کے ذریعہ استنباط خالق کو دریافت کرے۔ مگر یہاں یہ واقعہ انسان کے لیے ایک رکاوٹ بنا رہا کہ اس کو یہ طریقہ معلوم نہ تھا کہ وہ خالق کو الگ کر کے مخلوق کو کس طرح دریافت کرے۔

یہ ڈی لنکنگ (delinking) کا معاملہ تھا۔ یعنی ضرورت تھی کہ انسان خالق کا مطالعہ اور مخلوق کے مطالعہ کو ایک دوسرے سے ڈی لنک کرے۔ مگر انسان کو قدیم زمانے میں یہ معلوم نہ تھا کہ وہ ڈی لنکنگ کی پالیسی کو عملاً کس طرح اختیار کرے۔ یہ واقعہ اٹلی کے سائنس داں گلیلیوگلیلی

‹ Previous page Next page › Contents of January 2024 All issues

Printed page