Al-Risala · March 2024 · page 44

10 مئی 1986

الرسالہ، مارچ ۲۰۲۴، صفحہ ۴۴

طرح لوٹا کر سخت غلطی کی ہے۔ غلطی کا احساس ایک بھاری بوجھ کی طرح دل کے اوپر محسوس ہونے لگا۔ فوراً ہی مجھے ایک حدیث یاد آئی اور میں دل ہی دل میں رضا صاحب کے لیے دعا کرنے لگا، دعا کے الفاظ یہ تھے ــ خدایا رضا صاحب کی مدد فرما۔ فرما۔ خدایا رضا صاحب کے احوال درست کردے۔ اس قسم کی دعائیں میں دل ہی دل میں تقریباً آدھے گھنٹے تک کرتا رہا۔ اس کے بعد اچانک ایسا محسوس ہوا کہ جیسے میرے دل کا بوجھ اتر گیا ہے۔ جو دل پہلے سخت بوجھل محسوس ہو رہا تھا وہ اچانک بالکل ہلکا ہوگیا۔

شاید یہی مطلب ہے اس آیت کا جس میں ارشاد ہوا ہے: اِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ (11:114) ــ یعنی بیشک نیکیاں دور کرتی ہیں برائیوں کو۔

آدمی سے اگر کوئی غلطی ہو جائے تو اس کو چاہیے کہ غلطی کی مناسبت سے کوئی نیک عمل کرے۔ یہ نیک عمل اس کی غلطی کو ان شاء اللہ زائل کردے گا۔

یمین الاسلام خان میرے بھتیجے ہیں۔ وہ انجینئر ہیں اور لکھنؤ میں آبپاشی کے محکمہ میں سپرنٹنڈنٹ ہیں۔ آج وہ دہلی آئے۔ بات چیت کے دوران انہوں نے ایک سبق آموز مقولہ بتایا: جب آپ ہنستے ہیں تو دنیا آپ کے ساتھ ہنستی ہے۔ مگر جب آپ روتے ہیں تو دنیا آپ کے اوپر ہنستی ہے۔

یہ ایک بہت بامعنی مقولہ ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ موجودہ دنیا میں ایک آدمی دوسرے آدمی سے بننے کی حد تک دلچسپی رکھتا ہے۔ کسی کی بگڑ رہی ہو تو اس سے دوسروں کو کوئی دلچسپی نہیں۔ بہت سے لوگوں کا یہ مزاج ہے کہ جب وہ کسی سے ملتے ہیں تو اس کو اپنا غم سنانے لگتے ہیں، مگر اس سے زیادہ حماقت اور کچھ نہیں۔ اس دنیا میں ہر آدمی اپنے مسائل سے دوچار ہے۔ کسی کو یہ موقع نہیں کہ وہ دوسرے کے مسائل میں دلچسپی لے، وہ دوسرے کے درد میں اس کا حصہ دار بن سکے۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2024 All issues

Printed page