10 مئی 1986
الرسالہ، مارچ ۲۰۲۴، صفحہ ۴۳
کو میں نے نیچے کے کمرے کی الماری میں کاغذ کے نیچے رکھ دیا تھا۔ رات کو مجھے یہ خیال آیا کہ اگر اچانک مجھے موت آجائے تو اس رقم کا کیا ہوگا۔ کیونکہ گھر کا کوئی شخص اس کے بارے میں واقف نہ تھا۔ چنانچہ میں بستر سے اٹھا۔ لالٹین جلائی اور ایک کاغذ پر یہ لکھا کہ میرے پاس فلاں شخص کا سو روپیہ بطور امانت ہے اور وہ فلاں الماری میں کاغذ کے نیچے رکھا ہوا ہے۔ اس طرح کا کاغذ لکھ کر میں نے اس کو اپنی جیب میں رکھا اور دوبارہ بستر پر لیٹ گیا۔
اس وقت میرے ذہن پر موت کا اتنا غلبہ تھا کہ اگر میں مذکورہ قسم کا کاغذ لکھ کر اپنی جیب میں نہ رکھتا تو شاید مجھے دوبارہ نیند نہ آتی۔ مگر جب میں نے یہ کاغذ اپنی جیب میں رکھ لیا تو اس کے جلد ہی بعد دوبارہ نیند آ گئی۔ اگرچہ صبح کو جب میں سو کر اٹھا تو میں ابھی زندہ تھا۔ موت ہر آدمی پر لازماً آتی ہے، مگر وہ ہمیشہ اپنے وقت پر آتی ہے۔ نہ اس سے پہلے اور نہ اس کے بعد۔ 13 مئی 1986 محمد رضا صاحب عجیب وغریب آدمی ہیں۔ وہ اپنے آفس میں لڑتے رہتے ہیں۔ کسی کی بات نہیں سنتے۔ مگر میری بات سن لیتے ہیں۔ اگر چہ مجھے اس کی وجہ نہیں معلوم۔
ان کو اپنے دفتر سے کچھ رقم ملی تھی۔ ان کی اہلیہ کو یہ اندیشہ ہوا کہ وہ اپنے مزاج کی وجہ سے رقم ضائع کر دیں گے ۔ چنانچہ ان کی اہلیہ کا پیغام میرے پاس آیا کہ وہ آپ کی بات سنتے ہیں۔ آپ ان سے رقم لے کر اپنے پاس رکھ لیں اور بوقت ضرورت دیتے رہیں ۔ چنانچہ میں نے یہ رقم (دس ہزار) ان سے لے کر بطور امانت اپنے پاس رکھ لی۔ وہ اکثر آتے ہیں اور حسب ضرورت رقم لے جاتے ہیں۔ آج ہمارے دفتر والوں نے انٹر کام پر بتایا کہ رضا صاحب آئے ہوئے ہیں۔ میں نے کہا کہ ان سے پوچھو کہ انہیں کتنی رقم چاہیے ۔ رضا صاحب نے کہا کہ اس وقت میں رقم کے لیے نہیں آیا ہوں۔ صرف ملاقات کرنا ہے۔ چونکہ رضا صاحب اپنے غیر معتدل ذہن کی وجہ سے اکثر غیر متعلق اور طویل باتیں کرتے ہیں۔ میں نے کہہ دیا کہ اگر رقم کی ضرورت ہو تو لے لیں مگر اس وقت ملاقات کا موقع نہیں ہے۔ رضا صاحب واپس چلے گئے۔ مگر اس کے چند منٹ بعد مجھے احساس ہوا کہ میں نے انہیں اس
‹ Previous page Next page › Contents of March 2024 All issues