16 مئی 1986
الرسالہ، مارچ ۲۰۲۴، صفحہ ۴۶
میں کوئی شخص دوسرے کا کام نہیں کرتا۔ مسلمان اگر یہ چاہتے ہیں کہ ان کی خبریں ان کے نقطۂ نظر کے مطابق دنیا میں پھیلیں تو وہ بھی "ڈیڑھ سو سالہ" عمل کے نتیجے میں ایک اعلیٰ سطح کی نیوز ایجنسی عمل میں لائیں۔ اس کے سوا اس مسئلے کا کوئی حل نہیں۔
16 مئی 1986
نظام الدین (دہلی) میں ہمارے مرکز کے سامنے سڑک کے دوسری طرف ایک سردار جی کا دومنزلہ مکان ہے۔ اس مکان میں بہت سے عرب طلبا کرایہ دار کے طور پر رہتے ہیں۔ آج ایک بجے دن میں، میں جمعہ کی نماز کے لیے مسجد کی طرف جا رہا تھا۔ راستہ میں ان میں سے تین عرب طلبا ملے۔ انہوں نے مجھے سلام کیا۔ میں نے بھی ان کو سلام کا جواب دیا۔ اس کے بعد میں نے پوچھا: من ای بلد انتم (آپ کا تعلق کس ملک سے ہے)۔ ان میں سے ایک نوجوان خاص لہجہ میں بولا: من بلاد اللہ فلسطین (اللہ کے ملک فلسطین سے)۔ اس نے یہ جملہ کہا اور پھر فورا اپنے ساتھیوں کے ساتھ آگے بڑھ گیا۔ ان فلسطینی طلبا سے میری ملاقات بہت کم ہو سکی ہے۔ مگر چونکہ وہ بالکل سامنے والے مکان میں قیام پذیر ہیں، اس لیے میں ان کو پچھلے ایک سال سے زیادہ عرصہ سے دیکھ رہا ہوں۔ سب سے زیادہ عجیب بات ہے کہ یہ لوگ اگرچہ یہاں تعلیم کی غرض سے آئے ہیں، مگر بہت کم ایسا ہوا ہے کہ وہ پڑھتے ہوئے دکھائی دیں۔ ممکن ہے وہ اپنے بند کمروں میں پڑھتے ہوں، مگر اپنی چھت پر اور اپنے صحن میں وہ ہمیشہ تفریح کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اور تفریح کا یہ سلسلہ منٹوں نہیں بلکہ گھنٹوں جاری رہتا ہے۔ ایک روز میں نے دیکھا کہ وہ ایک سپیرے کو پکڑ لائے اور تقریباً آدھے دن تک سب جمع ہو کر سانپ کا کھیل دیکھتے رہے اور اس کے ساتھ تصویریں کھنچواتے رہے۔ اکثر ان کے کمرے سے ٹیپ ریکارڈر بجنے کی آواز آتی ہے جو بہت دیر تک جاری رہتی ہے۔ کبھی ایئر گن لے کر سارا دن چڑیوں پر نشانہ لگاتے رہتے ہیں، وغیرہ۔ مجھے اپنے باہر کے سفروں میں بعض ایسے فلسطینی ملے ہیں جو نہایت سنجیدہ تھے، مگر غالباً بیشتر فلسطینیوں کا مزاج وہی ہے، جس کا نقشہ اوپر کی مثال میں نظر آتا ہے۔ جو لوگ اس قدر غیر سنجیدہ ہوں، جو اتنی بے دردی کے ساتھ اپنے وقت کو برباد کریں وہ موجودہ مقابلہ کی دنیا میں کس طرح کامیاب ہو سکتے ہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2024 All issues