Al-Risala · March 2024 · page 47

16 مئی 1986

الرسالہ، مارچ ۲۰۲۴، صفحہ ۴۷

نئی دہلی کے ایک ہال میں مسلمانوں نے ایک جلسہ کیا۔ اس میں مسلمانوں کے ایک مشہور قائد نے تقریر کی۔ جلسہ میں ہندو صحافی اور دانشور بھی بلائے گئے تھے۔ تقریر کا خاص موضوع اسلامی شریعت تھا۔ ہال میں شاہ بانو کے معاملہ پر مسلمانوں نے جو زور و شور دکھایا ہے، اس کی وجہ سے غیر مسلموں میں شریعت کے بارے میں عمومی طور پر ایک تجسس پیدا ہو گیا ہے۔ یہ جلسہ 4 مئی 1986 کو ہوا۔ خصوصی مقرر نے پرجوش تقریر کی۔ مگر تقریر میں زیادہ تر اس قسم کی باتیں تھیں کہ شریعت ہم کو جان سے بھی زیادہ عزیز ہے۔ ہم کسی قیمت پر شریعت کے اندر مداخلت کو برداشت نہیں کر سکتے، وغیرہ۔ ایک ہندو نے تقریر کے بعد کہا کہ موجودہ دور میں اس قسم کی باتیں قبول نہیں کی جا سکتیں۔ اگر آپ یہ کہیں کہ ہماری شریعت میں لکھا ہے کہ بہو کو تیل چھڑک کر جلا دو تو کیا آپ اپنی بہو کو جلا دیں گے اور ملک خاموش رہے گا۔ آپ کو اپنے قانون کی معقولیت بتانی ہوگی۔ صرف دعویٰ کافی نہیں ہو سکتا۔ یہی موجودہ زمانہ میں ہمارے تمام لکھنے اور بولنے والوں کا حال ہے۔ "مداخلت فی الدین" کے نام پر وہ زبردست جوش دکھائیں گے، مگر دین کی معقولیت ثابت کرنے کے لیے محنت نہیں کریں گے۔ حالانکہ زمانہ عقل کا زمانہ ہے۔ آج کا آدمی عقل کی سطح پر ہر چیز کو جانچتا ہے۔ دین کو عصری اسلوب میں پیش کرنے کا حکم ہے، مگر مسلمان اس کو صرف اسلوب ماضی میں پیش کر رہے ہیں۔ انہیں تجربات سے متاثر ہو کر میں آج کل ایک کتاب مرتب کر رہا ہوں جس کا نام ہے "خاتونِ اسلام"۔ میرا یہ موضوع نہیں۔ میرا اصل موضوع دعوت ہے۔ مگر مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ انہوں نے شاہ بانو کے مسئلہ کو لے کر شریعت کا ہنگامہ کھڑا کر دیا، مگر شریعت کو زمانہ کے اسلوب میں پیش کرنے کے لیے وہ کچھ نہیں کر رہے ہیں۔ اس لیے مجھ کو یہ ذمہ داری قبول کرنی پڑی۔ 18 مئی 1986 مسٹر سرجیت سنگھ برنالا اس وقت پنجاب کے چیف منسٹر ہیں۔ ان کے حکم سے 30 اپریل 1986 کو مسلح پولیس امرتسر کے گوردوارہ (سورن مندر) میں داخل ہو گئی۔ تا کہ وہاں سے دہشت پسندوں کو نکالے۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2024 All issues

Printed page