زندگی کی تعمیر
الرسالہ، مئی ۲۰۲۳، صفحہ ۹
زندگی کی تعمیر
ہر انسان جو اس دنیا میں آتا ہے، وہ خالق کی طرف سے ایک منفرد صلاحیت (unique quality) لے کر آتا ہے۔ اس کے ساتھ ہر انسان ایک غیر معمولی دماغ (mind) لے کر آتا ہے۔ ہر انسان کے لیے یہ ممکن ہوتا ہے کہ وہ اپنے دماغ کو استعمال کر کے اپنی صلاحیت کو دریافت کرے، اور دانش مندانہ پلاننگ کے تحت اپنے پوٹینشل (potential) کو واقعہ (actual) بنائے۔ ہر آدمی کامیابی کے ساتھ اس کو انجام دے سکتا ہے، بشرطیکہ وہ حقیقت پسندانہ انداز میں اپنے ذہن کو استعمال کرے۔ اس معاملہ کا دوسرا پہلو وہ ہے جس کو سپورٹنگ سسٹم کہا جا سکتا ہے۔ فطرت کے مطابق یہ ہونا چاہیے کہ سماج کا نظام مکمل طور پر مئیرٹ کی بنیاد پر قائم کیا جائے۔ مبنی بر مئیرٹ سماج (merit based society) کے اندر فطری طور پر ایک موافق عمل قائم ہو جاتا ہے، جس کو آٹو میٹک چینلائزیشن (automatic channelization) کہا جا سکتا ہے۔ اس عمل (process) کے دوران اپنے آپ ایسا ہوتا ہے کہ ہر آدمی آخر کار اپنی اس استثنائی خصوصیت کو دریافت کر لیتا ہے، جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا تھا۔
اصل یہ ہے کہ ہر آدمی کے اندر اس بات کا طاقت ور محرک پایا جاتا ہے کہ وہ اپنے سماج میں امتیازی درجہ حاصل کرے ۔ یہ داخلی اسپرت اپنا کام کرتی ہے۔ آدمی نے اگر غلط چوائس (choice) لے لیا ہے تو وہ اس کو آمادہ کرتی ہے کہ وہ اپنے چوائس کو بدلے، اور اس چوائس کو لے جس میں وہ بہتر (excel) کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس داخلی اسپرت کے ساتھ سماج کے اندر مبنی بر مئیرٹ نظام شامل ہو جائے تو اس کے بعد لازمی طور پر ایسا ہوتا ہے کہ ہر آدمی اپنے اس خصوصی رول کو پا لیتا ہے، جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا تھا۔ یہی زندگی کی تعمیر کا فطری طریقہ ہے۔ کسی خود ساختہ طریقے سے اس مقصد کو حاصل نہیں کیا جا سکتا، خواہ بظاہر وہ کتنا ہی زیادہ خوش نما معلوم ہوتا ہو۔