صبر کی تعلیم
الرسالہ، مئی ۲۰۲۳، صفحہ ۱۰
صبر کی تعلیم
ایک مغربی مبصر ولیم پیٹن (William Paton) نے لکھا ہے کہ اسلام کا ایک پھل انسانیت کے لیے یہ رہا ہے کہ اس نے لوگوں میں شدید اور مستقل صبر پیدا کیا۔ صبر کی یہ کیفیت ان میں اللہ کی کامل اطاعت سے پیدا ہوئی:
One of the fruits of Islam has been that stubborn, durable patience which comes of the submission to the absolute will of Allah. یہ تبصرہ نہایت درست ہے۔ اسلام میں صبر کی بے حد اہمیت ہے۔ قرآن کی بیشتر آیتیں، براہِ راست یا بالواسطہ طور پر، صبر ہی سے متعلق ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ صبر کی صفت ایک ایسی صفت ہے جس کے بغیر ایمان و اسلام کا تصور ہی نہیں کیا جا سکتا۔
موجودہ دنیا اس ڈھنگ پر بنی ہے کہ یہاں بار بار آدمی کو ناخوشگوار تجربات سے سابقہ پیش آتا ہے گھر کے اندر بھی اور گھر کے باہر بھی۔ اب اگر آدمی ہر ایسے موقع پر لوگوں سے الجھ جائے تو وہ انسانی ترقی کی طرف زیادہ آگے نہیں بڑھ سکتا۔ اس لیے اسلام میں صبر کی بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے۔ تا کہ آدمی ناخوش گواریوں کو نظر انداز کرتے ہوئے مقصدِ اعلیٰ کی طرف اپنے سفر کو جاری رکھ سکے۔ قرآن میں بار بار صبر کی تاکید کی گئی ہے۔ مثلاً فرمایا کہ جو مصیبتیں تمہارے اوپر پڑیں ان پر صبر کرو (31:17) صبر کرو، اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے (8:46)۔ فرمایا کہ گھاٹے سے محفوظ رہنے والے لوگ وہ ہیں جو ایک دوسرے کو حق کی نصیحت کریں اور ایک دوسرے کو صبر کی نصیحت کریں (103:3)۔ اسی طرح حدیث میں کثرت سے صبر کی اہمیت بتائی گئی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سنو اور مانو اور صبر کرو (مسند احمد، حدیث نمبر 10008)۔ ایک صحابی کہتے ہیں: رسول اور اصحابِ رسول مشرکین اور اہل کتاب سے درگزر کرتے تھے، جیسا کہ اللہ نے ان کو حکم دیا تھا۔ اور ان کی ایذاؤں پر ہمیشہ صبر کرتے تھے (صحیح البخاری، حدیث نمبر 4566)۔ حقیقت یہ ہے کہ صبر اسلامی عمل کی بنیاد ہے۔ فتنوں اور آزمائشوں کی اس دنیا میں صبر کے بغیر کوئی آدمی اسلامی کردار پر قائم نہیں رہ سکتا۔