با اصول زندگی
الرسالہ، مئی ۲۰۲۳، صفحہ ۲۱
با اصول زندگی
دنیا کا نظام اس طرح بنا ہے کہ یہاں ہمیشہ ایک کو دوسرے سے اختلاف پیش آتا ہے۔ یہ اختلاف مبنی بر فطرت ہے۔ اس لیے اُس کو کبھی ختم نہیں کیا جاسکتا۔ ایسی حالت میں، کامیاب زندگی کا اصول صرف ایک ہے، اور وہ یہ ہے کہ لوگوں کے ساتھ ایڈجسٹ (adjust) کرکے زندگی گزاری جائے۔ اختلاف کو نظر انداز کر کے باہمی مفاد (mutual interest) کی بنیاد پر زندگی کا نظام قائم کیا جائے ۔ اس دنیا میں اس کے سوا، کوئی انتخاب (option) کسی کے لیے ممکن نہیں۔ اس معاملے میں، مسلمانوں کا معاملہ دوسروں سے الگ نہیں ہے۔ البتہ مسلمان کو اس معاملے میں ایک امتیازی خصوصیت حاصل ہے۔ دوسروں کے لیے ایڈجسٹ منٹ (adjustment) صرف مفاد (interest) کا ایک معاملہ ہے، مگر مسلمان کے لیے یہ معاملہ ایک اعلی عبادت کا معاملہ بن جاتا ہے۔
اس فرق کا سبب یہ ہے کہ مسلمان کا ایڈجسمنٹ ایک اصول کے تحت ہوتا ہے، جب کہ دوسروں کا ایڈجسمنٹ صرف دنیوی مفاد کے تحت پیش آتا ہے۔ مسلمان اپنی حیثیت کے اعتبار سے، ایک خدائی مشن کے حامل ہیں، یعنی خدا کے ابدی پیغام کو دوسرے تمام انسانوں تک پہنچانا۔ پیغام رسانی کا یہ کام صرف اُس وقت درست طور پر انجام پاسکتا ہے، جب کہ مسلمانوں اور غیر مسلم قوموں کے درمیان خوش گوار تعلقات قائم ہوں۔ مسلمان جب دوسری قوموں کے ساتھ ایڈجسمنٹ کا معاملہ کرتا ہے تو اُس کا محرک (incentive) اُس کا یہی دعوتی ذہن ہوتا ہے۔ وہ ذاتی مفاد کے لیے ایڈجسمنٹ نہیں کرتا، بلکہ وہ صرف اس لیے ایڈجسمنٹ کرتا ہے، تا کہ اُس کا دعوتی مشن کسی رکاوٹ کے بغیر پر امن انداز میں جاری رہے۔ محرک کا یہ فرق بہت اہم ہے۔ اسی فرق کی بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ مسلمان کا ایڈجسمنٹ ایک ایسا عبادتی عمل بن جاتا ہے جو اُس کو آخرت میں اجر عظیم کا مستحق بنادے۔ اس کے برعکس، دوسروں کا ایڈجسمنٹ