Al-Risala · May 2023 · page 22

با اصول زندگی

الرسالہ، مئی ۲۰۲۳، صفحہ ۲۲

صرف ذاتی مفاد کی بنیاد پر ہوتا ہے، اس سے زیادہ اُس کی کوئی اور حیثیت نہیں۔ مذکورہ قسم کا ایڈجسٹ منٹ موجودہ دنیا کا ایک لازمی قانون ہے۔ اس معاملے میں کسی بھی شخص یا گروہ کا کوئی استثنا (exception) نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مسلمان اگر اصولی بنیاد پر ایڈجسٹ منٹ نہ کریں تو اُن کو مفاد کی بنیاد پر ایڈجسٹ منٹ کا معاملہ کرنا ہوگا۔ مگر ایسی صورت میں ان کا ایڈجسٹ منٹ عبادت کا عمل نہ ہوگا، بلکہ وہ صرف موقع پرستی (expediency) کا ایک معاملہ ہوگا، یعنی وہی چیز جس کو شریعت کی زبان میں منافققت (hypocrisy) کہا جاتا ہے۔ اصول پسندی، ایک اعلیٰ اخلاقی صفت ہے، اس کے مقابلے میں، موقع پرستی ایک انتہائی بُری صفت۔ اس دنیا میں کسی آدمی کے لیے صرف دو میں سے ایک کا انتخاب (option) ہے ــــ اخلاص، یا منافقت۔ مخلصانہ زندگی میں منافقت کا کوئی مقام نہیں۔ اسی طرح منافقانہ زندگی میں اخلاص کا کوئی درجہ نہیں۔ دعوتی مشن واحد مشن ہے جو آدمی کو اس معاملے میں منافقانہ روش سے بچاتا ہے۔ دعوتی مشن آدمی کے اندر یہ مزاج پیدا کرتا ہے کہ وہ اپنے اعلیٰ ربانی مشن کی خاطر دوسروں کے ساتھ ایڈجسٹ منٹ کا طریقہ اختیار کرے۔ بظاہر اگر چہ داعی بھی ایڈجسٹ منٹ کا معاملہ کرتا ہے، مگر اُس کا ایڈجسٹ منٹ، اصول کی بنیاد پر ہوتا ہے، نہ کہ مفاد کی بنیاد پر۔

یہ کوئی سادہ معاملہ نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مسلمان اگر دعوتی مصلحت کی بنا پر دوسروں کے ساتھ ایڈجسٹ منٹ نہ کریں تو اُنھیں ذاتی مصلحت کی بنا پر دوسروں کے ساتھ ایڈجسٹ منٹ کرنا پڑے گا۔ گویا کہ اگر وہ دوسروں کے درمیان مخلص بن کر نہ رہیں تو اُنھیں دوسروں کے درمیان منافق بن کر رہنا ہوگا، اور بلاشبہ منافقانہ زندگی سے زیادہ بُری کوئی چیز اس دنیا میں نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ صبر بھی شکر ہی کی ایک صورت ہے۔ ناخوش گوار صورت حال کو رضا مندی کے ساتھ قبول کرنا اور اس کو خدا کی طرف سے آیا ہوا مان کر مثبت ذہن کے تحت اس کا استقبال کرنا یہی صبر ہے۔ اور یہ صبر ہمیشہ شاکرانہ قلب سے ظاہر ہوتا ہے۔ ناشکری سے بھرا ہوا دل کبھی صبر کا ثبوت نہیں دے سکتا۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2023 All issues

Printed page