سیلف ڈسپلن
الرسالہ، مئی ۲۰۲۳، صفحہ ۲۳
سیلف ڈسپلن
مارکسی لیڈر جوزف اسٹالن (Joseph Stalin) نے اشتراکی انقلاب (1917ء) سے پہلے اپنی ایک تقرير ميں کہا تھا کہ ہم کو انقلاب کے لیے تین چیزوں کی ضرورت ہے: اول ہتھیار، دوم ہتھیار، سوم ہتھیار، آخر میں پھر ہتھیار۔ یہ جھوٹے انقلاب کا فارمولا تھا۔ سچے انقلاب کا فارمولا یہ ہے ــــ اول صبر، دوم صبر، سوم صبر، آخر میں پھر صبر۔
صبر کیا ہے، صبر دراصل امن پر مبنی دانش مندانہ منصوبہ بندی (planning) کا نام ہے۔ صبر یہ ہے کہ وقت اور طاقت کا کوئی معمولی حصہ بھی بے فائدہ ٹکراؤ میں ضائع نہ کیا جائے، بلکہ ساری حاصل شدہ توانائی کو صرف ایک مقصد کے لیے استعمال کیا جائے، یعنی ٹکراؤ کو نظر انداز کرنا اور دستیاب مواقع کو بھر پور طور پر استعمال کرنا۔
صبر دراصل یہ ہے کہ آدمی ردِ عمل (reaction) سے اپنے آپ کو بچائے، وہ دانش مندانہ تدبیر کے ذریعے اپنے عمل کی منصوبہ بندی کرے۔ صابرانہ منصوبہ بندی صرف وہ شخص کر سکتا ہے جو حالات سے اوپر اٹھ کر سوچے، جو حالات کا عامل بن جائے، نہ کہ حالات کا معمول۔
تاریخ کے تمام تجربات بتاتے ہیں کہ ہتھیار یا جنگ صرف تخریب کاری کا سبب ہے۔ جب بھی کسی نے حقیقی معنوں میں کوئی کامیابی حاصل کی ہے تو وہ پر امن جد و جہد کے ذریعے حاصل کی ہے ۔ اگر نتیجے کی بنیاد پر منصوبہ بنایا جائے تو کوئی بھی شخص مسلح عمل کا منصوبہ نہیں بنا سکتا۔ ہر شخص لازمی طور پر پر امن عمل کی بنیاد پر اپنا منصوبہ بنائے گا۔
صبر کا طریقہ ثابت شدہ طور پر بہتر طریقہ ہے۔ پھر کیوں ایسا ہے کہ لوگ صبر کا طریقہ اختیار نہیں کرتے ۔ اس کا واحد سبب یہ ہے کہ صبر اپنے آپ پر سیلف کنٹرول کا تقاضا کرتا ہے۔ صبر کا طریقہ اختیار کرنے کے لیے اپنے جذبات پر قابو رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ صبر دراصل سیلف ڈسپلن کا نام ہے، اور بلاشبہ سیلف ڈسپلن سے زیادہ مشکل کوئی کام انسان کے لیے نہیں۔