اپنی تعمیرِ آپ
الرسالہ، مئی ۲۰۲۳، صفحہ ۳۵
انسان کے لیے اللہ نے جنت کو مقدر کیا ہے۔ جنت انسان کا ہیبیٹاٹ (habitat) ہے۔ جنت وہ جگہ ہے جہاں انسان کی تمام خواہشیں پوری ہوں گی، جہاں انسان کو مکمل معنوں میں فل فلمنٹ (fulfilment) حاصل ہوگا۔ اس قسم کی جنت بلا شبہ انسان کے لیے خالق کا سب سے بڑا عطیہ ہے۔
انسان کے اوپر خالق کا مزید احسان یہ ہے کہ اس نے یہ فیصلہ کیا کہ انسان کو جنت یہ کہہ کر دی جائے کہ تم کو جنت بطور استحقاق دی جا رہی ہے۔ اگر چہ دینے والا پھر بھی خالق ہو گا۔ خالق کے بغیر انسان اس دنیا میں کوئی بھی چیز حاصل نہیں کر سکتا۔ لیکن یہ خالق کی خصوصی عنایت ہے کہ وہ انسان کو جنت یہ کہہ کر دے کہ تم نے اپنے عمل سے اپنے آپ کو جنت کا مستحق ثابت کیا ہے، اس لیے تم کو جنت دی جا رہی ہے۔ اب تم اس میں ابدی طور پر خوف اور حزن سے محفوظ ہو کر قیام کرو۔ اس سلسلے میں ایک حدیث کا مطالعہ بہت اہم ہے۔ وہ حدیث ان الفاظ میں آئی ہے: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ لَمْ تُذْنِبُوا لَذَهَبَ اللَّهُ بِكُمْ، وَلَجَاءَ بِقَوْمٍ يُذْنِبُونَ، فَيَسْتَغْفِرُونَ اللَّهَ فَيَغْفِرُ لَهُمْ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2749)۔ یعنی، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر تم گناہ نہ کرو تو اللہ تم کو ہٹا دے گا اور ایسی قوم کو لائے گا جو گناہ کرے پھر اللہ سے مغفرت طلب کرے تو اللہ انہیں معاف فرمادے گا۔
اس حدیث میں گناہ اور مغفرت کا ذکر ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس معاملے میں زیادہ اہم بات کیا ہے۔ وہ گناہ اور مغفرت کے درمیان جاری ہونے والا نفسیاتی عمل (psychological process) ہے۔ جب انسان کوئی گناہ کرتا ہے تو وہ اس کے ایگو (ego) کا فعل ہوتا ہے۔ مگر عین اسی وقت انسان کی دوسری صفت، ضمیر جاگ اٹھتی ہے۔ اس کے اندر شدید ندامت کا عمل جاری ہو جاتا ہے۔ اس طرح انسان کے اندر ایک داخلی اسٹرگل (struggle) جاری ہو جاتا ہے۔ یعنی ایگو اور ضمیر یا سیلف اور اینٹی سیلف کے درمیان داخلی اسٹرگل۔ اس داخلی اسٹرگل کے ذریعہ انسان کے اندر ایک نئی شخصیت ایمرج کرتی ہے۔ یہ شخصیت احساس خطا کے بغیر بن نہیں سکتی۔