انسان کی رعایت
الرسالہ، مئی ۲۰۲۳، صفحہ ۳۶
انسان کی رعایت
نفرت کے جواب میں نفرت پیدا ہوتی ہے اور محبت کے جواب میں محبت۔ اسی لیے اسلام نے یہ طریقہ سکھایا ہے کہ کسی کو غلطی کرتے دیکھو تو اس کو حکمت و محبت کے ساتھ سمجھاؤ جس طرح ایک باپ اپنے بیٹے کو سمجھاتا ہے۔
حضرت انس سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا: يَسِّرُوا وَلا تُعَسِّرُوا ، وَبَشِّرُوا وَلا تُنَفِّرُوا ( صحیح البخاری، حدیث نمبر 69)۔ یعنی تم لوگوں کے ساتھ آسانی کا معاملہ کرو، تم لوگوں کے ساتھ سختی کا معاملہ نہ کرو۔ تم لوگوں کو خوش خبری دو، تم لوگوں کو متنفر نہ کرو۔
حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا کہ میں فجر کی جماعت میں اس لیے پیچھے رہ جاتا ہوں کہ فلاں صاحب ہماری مسجد میں نماز پڑھاتے ہیں اور وہ اس کو بہت لمبا کر دیتے ہیں۔ آپ یہ سن کر غضبناک ہو گئے ۔ حتیٰ کہ اس سے زیادہ غضبناک میں نے آپ کو کبھی نہیں دیکھا تھا۔ پھر آپ نے تقریر کرتے ہوئے فرمایا: یا اَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ مِنْكُمْ مُنْفِرِينَ، فَمَنْ أَمَّ النَّاسَ فَلْيَتَجَوَّزْ، فَإِنَّ خَلْفَهُ الضَّعِيفَ وَالْكَبِيرَ وَذَا الْحَاجَةِ ( صحیح البخاری، حدیث نمبر 704) ۔ یعنی، اے لوگو! تم میں کچھ ایسے ہیں جو لوگوں کو دین سے دور کر دیتے ہیں۔ تم میں سے جو شخص لوگوں کی امامت کرے، اس کو چاہیے کہ مختصر نماز پڑھائے۔ کیونکہ اس کے پیچھے کوئی کمزور ہے، کوئی بوڑھا، کوئی ضرورت مند۔
حضرت جابر رضی اللہ عنہ ایک روایت میں بتاتے ہیں کہ معاذ بن جبل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کی مسجد میں نماز پڑھتے تھے۔ یہاں سے واپس ہو کر جاتے اور اپنے محلہ والوں کی امامت کرتے۔ ایک دن انھوں نے عشاء کی نماز پڑھائی اور اس میں سورہ البقرہ پڑھی۔ ایک آدمی لمبی قرات سے گھبرا کر نماز سے الگ ہو گیا۔ اس کے بعد حضرت معاذ اس سے کھنچے کھنچے رہنے لگے۔ رسول اللہ