سادہ حل
الرسالہ، مئی ۲۰۲۳، صفحہ ۱۳
کا چاہیے کہ اگر وہ بولنا چاہتا ہے تو پہلے اس کی تمام شرطوں کو پورا کرے، اس کے بعد اپنی رائے ظاہر کرے۔
سادہ حل
ایک صاحب نے اپنا واقعہ لکھا ہے۔ وہ ایک ریگستانی علاقے میں گئے۔ وہ تانگے پر سفر کر رہے تھے۔ اتنے میں آندھی کے آثار دکھائی دیے۔ تانگے والے نے اپنا تانگہ روک دیا۔ اس نے بتایا کہ اس علاقے میں بڑی خطرناک آندھی آتی ہے، وہ اتنی تیز ہوتی ہے کہ بڑی بڑی چیزوں کو اڑا لے جاتی ہے۔ اور آثار بتا رہے ہیں کہ اس وقت اسی طرح کی آندھی آ رہی ہے۔ اس لیے آپ لوگ تانگے سے اتر کر اپنے بچاؤ کی تدبیر کریں۔
آندھی قریب آ گئی تو ہم لوگ ایک پیڑ کی طرف بڑھے کہ اس کی آڑ میں پناہ لے سکیں۔ تانگے والے نے ہمیں درخت کی طرف جاتے ہوئے دیکھا تو وہ چیخ پڑا۔ اس نے کہا کہ پیڑ کے نیچے ہرگز نہ جانا۔ اس آندھی میں بڑے بڑے پیڑ گر جاتے ہیں۔ اس لیے اس موقع پر پیڑ کے نیچے چھپنا بہت خطرناک ہے، اس نے کہا کہ اس آندھی کے مقابلے میں بچاؤ کا ایک ہی طریقہ ہے۔ وہ یہ کہ آپ لوگ کھلی زمین پر اوندھے لیٹ جائیں۔
ہم نے تانگے والے کے کہنے پر عمل کیا اور زمین پر منہ نیچے کر کے لیٹ گئے۔ آندھی آئی اور بہت زور کے ساتھ آئی۔ وہ بہت سے پیڑوں اور ٹیلوں کو اڑا لے گئی۔ لیکن یہ سارا طوفان ہمارے اوپر سے گزرتا رہا۔ زمین کی سطح پر ہم محفوظ پڑے رہے۔ کچھ دیر کے بعد جب آندھی کا زور ختم ہوا تو ہم اٹھ گئے۔ ہم نے محسوس کیا کہ تانگے والے کی بات بالکل ٹھیک تھی۔ (ذکرہ،