بے صبری نہیں
الرسالہ، جولائی ۲۰۲۴، صفحہ ۱۶
بے صبری نہیں
میں نے اپنی پوری زندگی مطالعہ میں گزاری ہے۔ میں نے جب انسانی تاریخ کا مطالعہ کیا تو مجھے سمجھ میں آیا کہ وہی انسان کامیاب ہو سکتا ہے، جو مستقل مزاج ہو۔ لیکن جس کے اندر گراس ہاپر (grasshopper) والا مزاج ہو، یعنی جو مستقل مزاجی کے ساتھ کسی چیز پر ٹک کر نہیں رہتا ہو، وہ ہر میدان میں ناکام ہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مستقل مزاجی سے انسان کو کامیابی ملتی ہے۔ کیوں کہ فطری قانون کے مطابق، اس دنیا میں کامیابی چند لمحوں کی محنت سے حاصل نہیں ہوتی، اس کے لیے صبر کے ساتھ لگا تار کوشش کرنا پڑتا ہے۔ برطانیہ کے سابق وزیر اعظم ونسٹن چرچل (1965-1874) کا ایک قول ہے — مستقل کوشش، نہ کہ قوت یا عقل، ہمارے پوٹینشل کو ایکپُول بنانے کی چابی ہے:
Continuous effort, not strength or intelligence, is the key to unlocking our potential. یہ صرف دنیوی امور کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ دینی امور میں بھی یہی مستقل کوشش پسندیدہ ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ کون سا عمل اللہ کو سب سے محبوب ہے (أَيُّ الْعَمَلِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ؟ )، آپ نے کہا کہ جو مسلسل کیا جائے اگرچہ کم ہو : أَدْوَمُهُ وَإِنْ قَلَّ ( صحيح مسلم، حدیث نمبر 782)۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ جب آپ کسی چیز کو پانے کی کوشش کرتے ہیں تو یہ صرف آپ کا معاملہ نہیں ہوتا، بلکہ اس میں دوسری چیزوں کو پہنچ کرنے کا معاملہ بھی شامل ہو جاتا ہے، خواہ وہ دوسرے انسانوں کا معاملہ ہو یا کوئی اور چیز۔ اللہ کا طریقہ یہ ہے کہ وہ ان تمام چیزوں کو پہنچ کرتے ہوئے انسان کی کوشش کا نتیجہ ظاہر کرتا ہے۔ اس لیے انسان کو اس کی کوشش کا نتیجہ فوراً نہیں مل پاتا، اس کو مسلسل کوشش کرنا پڑتا ہے۔ اس کو جلد بازی کے بجائے تدریج کے ذریعہ اپنا سفر طے کرنا پڑتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2024 All issues