نتیجہ خیز عمل
الرسالہ، جولائی ۲۰۲۴، صفحہ ۱۷
نتیجہ خیز عمل
ایک تعلیم یافتہ مسلمان نے سوال کیا کہ ہندوستانی مسلمانوں کے مسائل کا حل کیا ہے ۔ میں نے کہا کہ صبر ۔ انھوں نے کہا کہ صبر کا کیا مطلب ہے ۔ میں نے کہا کہ صبر کا مطلب ہے ۔ مسائل کو نظر انداز کر کے مواقع کو استعمال کرنا ۔
انھوں نے کہا کہ میں مانتا ہوں کہ صبر کا حکم قرآن میں ہے ۔ مگر صبر کوئی مطلق چیز نہیں ۔ جب کھلم کھلا اشتعال انگیزی کی جائے ۔ جب ہم صاف طور پر دیکھیں کہ مسلمانوں کے اوپر زیادتی کی جارہی ہے تو اس وقت صبر کیسے کیا جائے گا ۔ ایسی حالت میں صبر کرنا تو بزدلی اور شکست خوردگی کے ہم معنی ہوگا ۔ میں نے کہا کہ آپ نے صبر کا معیار غلط قائم کیا ہے ۔ صبر کے اختیار یا ترک کا معیار یہ نہیں ہے کہ صبر کرنے میں آپ کو بزدلی یا شکست خوردگی نظر نہ آئے تو آپ صبر کریں اور جب صبر کا طریقہ آپ کو بزدلی اور شکست خوردگی دکھائی دے تو آپ صبر کو چھوڑ دیں ۔ یہ جذباتیت ہے ، جب کہ معیار ہمیشہ اصولی بنیاد پر طے کیا جاتا ہے ۔ صبر کا حقیقی معیار صرف ایک ہے ، اور وہ رزلٹ ( نتیجہ ) ہے ۔ صبر کا اصول صرف اس وقت توڑا جاسکتا ہے جب کہ اس میں کوئی مثبت نتیجہ ملنے والا نہ ہو ، بصورت دیگر ، صبر کی روش پر قائم رہنا ضروری ہوگا ۔ خواہ بظاہر وہ بزدلی اور شکست خوردگی کیوں نہ دکھائی دیتا ہو ۔ قدیم مکہ میں مسلمانوں کے خلاف ہر طرح کی اشتعال انگیزی جاری تھی ۔ ہر قسم کا ظلم ان پر کیا جا رہا تھا۔ حضرت عمر نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ ان ظالموں کے خلاف جہاد کیا جائے ۔ آپ نے فرمایا کہ اے عمر ، ابھی ہم تھوڑے ہیں (یا عُمَرُ، إِنَّا قَلِيلٌ) البدایہ والنہایہ لابن کثیر، جلد 3، صفحہ 230۔ اس سے معلوم ہوا کہ مسلمان جب قلیل ہوں اور فریق مخالف کثیر ہو تو ظلم کے باوجود ٹکراؤ کا طریقہ اختیار نہیں کیا جائے گا ۔ کیوں کہ ایسے اقدام کا کوئی فائدہ نہیں ۔ اسلام میں صرف اسی اقدام کی اجازت ہے جو نتیجہ خیز ہو ۔ جو اقدام بے نتیجہ ہو کر رہ جائے یا جس اقدام کا الٹا انجام نکلنے والا ہو ، وہ سنتِ رسول کے خلاف ہے ۔ اور جو عمل سنتِ رسول کے خلاف ہو وہ بلا شبہ اللہ کے یہاں غیر مقبول قرار پائے گا ۔ نتیجہ کو سامنے رکھ کر اپنا رویہ مقرر کرنا اسلام ہے ، اور نتیجہ سے بے پروا ہو کر جوش وجذبہ کے تحت اقدام کرنا نادانی ۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2024 All issues