Al-Risala · July 2024 · page 22

آزادی رائے کا ماحول

الرسالہ، جولائی ۲۰۲۴، صفحہ ۲۲

آزادی رائے کا ماحول

ایک طریقہ وہ ہے، جس کو شخصی اجارہ داری کا طریقہ کہا جا سکتا ہے۔ یہ طریقہ بظاہر غیر نزاعی طریقہ ہوتا ہے۔ یعنی ایسا طریقہ جس میں مرکزی شخصیت کی بات مانی جائے، اس سے کوئی اختلاف نہ کیا جائے۔ یہ طریقہ بظاہر بہت اچھا معلوم ہوتا ہے۔ مگر اس طریقہ میں آزادی رائے کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ بات کو شخصیت کے بجائے میرٹ (merit) کی سطح پر دیکھا جائے، اور اس کو صحیح اور غلط کے معیار سے جانچا جائے۔ اس طریقے میں آزادی رائے کا ماحول باقی رہتا ہے۔ اس طریقے میں وہ لوگ اکٹھا ہوتے ہیں، جنھوں نے اپنے زمانے کو سمجھا ہو، اور اس کو اویل کیا ہو۔ پہلا طریقہ قدیم پیٹرن ہے، اور دوسرا طریقہ جدید پیٹرن۔

دونوں طریقے کے اپنے اپنے فائدے ہیں۔ پہلے طریقے میں بظاہر یہ فائدہ ہے کہ وہاں اختلاف پیدا نہیں ہوتا۔ یہ طریقہ بظاہر اچھا معلوم ہوتا ہے۔ لیکن اس کا نقصان یہ ہے کہ وہاں کے افراد میں ذہنی ارتقا نہیں ہو پاتا، ان کے اندر فکری جمود (intellectual stagnation) پیدا ہو جاتا ہے۔ وہ نئے نئے آئیڈیاز پر سوچ نہیں پاتے۔ وہ کریٹیوتھنکنگ سے خالی ہو جاتے ہیں۔ ہر آدمی جہاں ہے، وہیں ہمیشہ کے لیے ذہنی طور پر باقی رہتا ہے۔ دوسرے طریقے میں بظاہر اختلاف کی برائی نظر آتی ہے۔ لیکن اختلاف کو اگر رائے کا فرق مان لیا جائے تو اس کی برائی ختم ہو جائے گی۔ ہر آدمی اپنی اپنی رائے کو لے کر سوچے گا۔ ہر آدمی کو یہ موقع رہے گا کہ وہ مختلف آرا کو ان کے میرٹ پر جانچے۔ آزادی رائے کے ماحول میں ذہنی ارتقا کا موقع باقی رہتا ہے۔ لیکن جہاں رائے کی آزادی کا ماحول نہ ہو، وہاں ذہنی جمود پیدا ہو جائے گا۔ جو شخص ذہنی طور پر جہاں پہلے تھا، وہیں باقی رہے گا۔ اس کے ذہنی ارتقا کا سفر رک جائے گا۔ انسانوں کے طرز فکر میں اختلاف کوئی غیر مطلوب چیز نہیں۔ کیوں کہ اس اختلاف کی بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ لوگوں کے درمیان ڈسکشن اور ڈائیلاگ ہوتا ہے، اور ڈسکشن اور ڈائیلاگ ذہنی ارتقا کا ذریعہ ہے۔ جہاں ڈسکشن اور ڈائیلاگ نہ ہو، وہاں یقینی طور پر ذہنی جمود پیدا ہو جائے گا، اور ذہنی جمود سے زیادہ تباہ کن اور کوئی چیز انسان کے لیے نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2024 All issues

Printed page