امن اور انصاف
الرسالہ، جولائی ۲۰۲۴، صفحہ ۲۳
امن اور انصاف
ایک تعلیم یافتہ کشمیری مسلمان سے ملاقات ہوئی۔ میں نے کہا کہ کشمیر میں سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے وہ امن ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم بھی امن چاہتے ہیں ، مگر امن وہ ہے جس کے ساتھ انصاف ملے ، جس امن کے ساتھ انصاف شامل نہ ہو وہ تو صرف ظالموں کے لیے مفید ہے ، نہ کہ مظلوموں کے لیے۔ کچھ لوگ امن مع انصاف (peace with justice) کی وکالت کرتے ہیں۔ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ صرف امن ایک منفی امن (negative peace) ہے اور امن مع انصاف مثبت امن۔ یہ بہت بڑی غلط فہمی ہے، جس میں تمام دنیا کے مسلم رہنما مبتلا ہیں۔ امن کی تعریف عدم جنگ (absence of war) سے کی جاتی ہے۔ یہ بالکل صحیح تعریف ہے۔ نتیجہ خیز امن وہ ہے جو امن برائے امن ہو۔ امن کے قیام کا مطلب انصاف کا نظام قائم کرنا نہیں ہے۔ امن صرف اس لیے ہوتا ہے کہ ہر قسم کی تعمیری سرگرمیوں کے لیے کارگر فضا حاصل ہو سکے۔ یہی عقل کے مطابق بھی ہے اور یہی اسلام کے مطابق بھی۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے جب حدیبیہ کا امن معاہدہ کیا تو اس میں آپ کو صرف امن ملا تھا ، انصاف نہیں ملا تھا۔ البتہ جب امن کے ذریعہ معتدل حالات پیدا ہوئے تو آپ نے ان حالات سے پیدا ہونے والے مواقع کو استعمال کر کے انصاف سے بھی عظیم کامیابی حاصل کر لی، یعنی مکہ کی فتح۔ انصاف کبھی امن کا جزو نہیں ہوتا ، انصاف ہمیشہ امن کے بعد حاصل شدہ مواقع کو استعمال کرنے سے ملتا ہے ، نہ کہ براہ راست طور پر خود امن کے ساتھ۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ عملی اعتبار سے امن تمام مطلوب چیزوں میں سب سے بڑا مطلوب ہے۔ اس لیے کہ کسی بھی مثبت یا تعمیری کام کے لیے انسانی آبادی میں امن کا ماحول انتہائی ضروری ہے۔ امن کے بغیر کسی بھی قسم کی کوئی ترقی نہیں ہوسکتی۔ امن معتدل ماحول میں فکر وعمل کے مواقع فراہم کرتا ہے۔ اس سے لوگوں کے درمیان مثبت سرگرمیاں شروع ہو جاتی ہیں۔ امن سے سماج میں تعمیری سرگرمیوں کے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس ، متشددانہ ماحول سماج میں نفرت، مایوسی اور غیر یقینی صورت حال کی منفی فضا قائم کر دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امن کے ساتھ آپ ابدی طور پر رہ سکتے ہیں مگر تشدد کے ماحول میں آپ ابدی طور پر نہیں رہ سکتے۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2024 All issues