Al-Risala · July 2024 · page 26

نیا زمانہ، نئی پلاننگ

الرسالہ، جولائی ۲۰۲۴، صفحہ ۲۶

قابلِ عمل نہیں بنتا، بلکہ یہ ایک سیکولر سبجیکٹ ہے جو مروجہ یونیورسل نارم (universal norm) کے تحت تشکیل پاتا ہے، اور اسی بنیاد پر اس کو سندِ جواز ملتا ہے۔

موجودہ زمانہ میں قومیت (nationhood) کا تصور ایک سیکولر تصور ہے۔ قومیت کا تعین سیکولر نظریات کے تحت متعین ہوتا ہے۔ مگر موجودہ زمانے کے مسلم رہنماؤں نے اس راز کو نہیں سمجھا۔ انھوں نے خود ساختہ ذہن کے تحت قومیت کے تصور کو اسلامائز کرنا شروع کر دیا، جو کہ موجودہ زمانے میں پوری طرح نا قابلِ عمل ہو چکا تھا۔

موجودہ زمانے میں قومیت کا تعلق وطن (homeland) سے تھا، مگر مسلم رہنماؤں نے اپنی بے خبری کے تحت مسلمانوں کو یہ بتایا کہ مسلمان کی قومیت اسلام پر مبنی ہونی چاہیے، نہ کہ وطن پر۔ یہ نظریہ بلا شبہ حقیقت پسندی کے خلاف تھا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمانوں کے بارے میں ساری دنیا میں یہ تصور بن گیا کہ مسلمان اپنے مذہب کا وفادار ہوتا ہے، وہ اپنے وطن کا وفادار نہیں ہوتا۔ اس کا مزید نقصان یہ ہوا کہ مسلمان عملاً ڈبل اسٹینڈرڈ کے خطرے میں مبتلا ہو گئے۔ وہ دنیا کے مختلف ملکوں میں جاتے ہیں، اور بظاہر وہ اس ملک کی شہریت اختیار کر لیتے ہیں۔ مگر ان کا مائنڈ سیٹ (mindset) وہی باقی رہتا ہے، جو کہ پہلے تھا۔ اس طرح وہ اپنے کو اس خطرے میں ڈال لیتے ہیں کہ وہ خود تو اپنے کو مومن سمجھیں، لیکن فرشتوں کے ریکارڈ میں ان کو ڈبل اسٹینڈرڈ والی شخصیت لکھا جائے۔ ترقی کا تعلق اس سے نہیں ہے کہ آپ اپنے مذہب سے باخبر ہوں، بلکہ ترقی کا تعلق اس سے ہے کہ آپ زمانے کے تقاضے کو سمجھیں، اور اس کے مطابق اپنے دین اور دنیا کی منصوبہ بندی کریں۔ تبدیل شدہ حالات کو سمجھنا، اور اس کی رعایت کرنا، منصوبہ بندی کو کامیاب کرتا ہے۔ یہ اس وقت ممکن ہے، جب کہ انسان کھلے ذہن کے ساتھ موجودہ حالات کو سمجھنے کی کوشش کرے، اور بغیر کسی ریزرویشن کے اس کے مطابق اپنے عمل کی پلاننگ کرے۔ لیکن موجودہ دور کے مسلمان اس راز کو نہ سمجھ سکے کہ یہ دور سائنسی دریافتوں کی بنا پر قدیم دور سے بالکل الگ حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ اب مسلمانوں کو یہ کرنا ہے کہ وہ جدید تقاضوں کو سمجھیں، اور اس کے مطابق اپنے عمل کی منصوبہ بندی کریں۔ یہی اس دنیا میں کامیابی کا راز ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2024 All issues

Printed page