Al-Risala · July 2024 · page 25

نیا زمانہ، نئی پلاننگ

الرسالہ، جولائی ۲۰۲۴، صفحہ ۲۵

خلافت جو بشمول ترکی 23 ملکوں میں قائم تھی، اس کا جواز قدیم طرز کے ایمپائر سے حاصل ہوا تھا۔ انیسویں صدی میں یہ سیاسی ماڈل عملاً متروک قرار پاگیا۔ اب اس کی جگہ نیا پولیکل ماڈل قائم ہوا، جونیشن اسٹیٹ (nation state) کے تصور پر قائم تھا۔ اب ساری دنیا میں وطن پر مبنی قومیت (homeland based nationalism) رائج ہے۔ ایسے پولیٹیکل ماحول میں خلافت عملاً بے زمین (groundless) ہو چکی ہے۔ یہ واقعہ خود عرب ملکوں میں پیش آیا، جو اس وقت خلافت عثمانی کا حصہ تھے۔ 1924 میں اتا ترک نے سیاسی خلافت کو نہیں ختم کیا، بلکہ وہ اس سے پہلے نئے سیاسی ماڈل کی بنا پر عملاً ختم ہو چکی تھی۔

زمانہ کی اس تبدیلی کا نتیجہ یہ ہونا چاہیے تھا کہ مسلم رہنما اپنی تحریکوں کا نقشہ نئے انداز میں بنائیں، جو زمانے کے تقاضہ کے مطابق ہو۔ مگر انھوں نے ایسی تحریکیں چلائیں جو خلاف زمانہ حرکت (anachronism) کا مصداق تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ مسلم رہنماؤں کی تمام تر کوششوں کے باوجود تحریک خلافت اپنا نشانہ حاصل کرنے میں مکمل طور پر نا کام ثابت ہوئی۔ اسی طرح ایک اور مثال یہ ہے کہ موجودہ زمانہ کے کچھ رہنماؤں نے اپنے مقصد کے حصول کے لیے پر تشدد طریق کار (violent activism) کو اختیار کیا، اور ان تحریکوں کو بطور خود جہاد کا نام دے دیا۔ یہ تحریکیں بھی اپنے نشانے کو پانے میں مکمل طور پر نا کام ہوگئیں ۔ اس کا سبب یہ تھا کہ دو عالمی جنگوں کے تجربے کے بعد ساری دنیا میں وائلنٹ ایکٹوزم (violent activism) نا قابل عمل قرار پا چکا تھا۔ اب جو طریقِ کار جائز طریقہ کی حیثیت سے دنیا میں مقبول ہوا، وہ مبنی بر امن طریقہ (peaceful activism) تھا۔

اقوام متحدہ کا عالمی نظام پر امن طریق کار کو جائز طریق کار (justified activism) کی حیثیت دیتا تھا، اور اس کے مقابلے میں پر تشدد طریق کار کو مکمل طور پر رد کر رہا تھا، لیکن مسلم رہنما زمانہ کی اس تبدیلی سے بے خبر ہو کر قدیم روایت کے مطابق پر تشدد طریق کار کے مطابق اپنی تحریکیں چلاتے رہے۔ انھوں نے اس بین اقوامی راز کو نہیں سمجھا کہ کوئی طریق کار جہاد کا عنوان دینے سے

‹ Previous page Next page › Contents of July 2024 All issues

Printed page