سب سے بڑا
الرسالہ، ستمبر ۲۰۲۴، صفحہ ۴
سب سے بڑا
نماز کے وقت مؤذن اونچائی پر کھڑا ہو کر بلند آواز سے پکارتا ہے: الله اکبر۔ یعنی اللہ سب سے بڑا ہے۔ اذان اور نماز دونوں ملا کر دیکھا جائے تو پانچ وقت کی نمازوں میں اللہ اکبر کا کلمہ روزانہ تقریباً تین سو بار دہرایا جاتا ہے۔ یہ کائنات کی سب سے بڑی سچائی کا اعلان ہے۔ یہ وہ پکار ہے جو سچائی کی دریافت پر انسان کی پوری شخصیت کی ترجمان بن کر آدمی کے دل سے نکل پڑی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ دین اسلام میں سب سے زیادہ اہمیت اس بات کی ہے کہ ایک انسان، ایمان والا بن کر اللہ کی عظمت کو دریافت کرے۔ اللہ رب العالمین کی عظمت اس کے شعور کا سب سے زیادہ اہم حصہ بن جائے۔ اصل یہ ہے کہ انسان کے اندر ایک داخلی فطرت (inner core) ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیا ہے (الروم، 30:30)۔ جب انسان کا شعور سچائی کی طلب میں فطرت کے اس داخلی گوشہ (inner core) تک پہنچ جائے کہ اس کی اندرونی فطرت آخری حد تک جاگ اٹھے تو اسی کا نام معرفت ہے۔ اللہ کی معرفت انسان کی شخصیت کی بیداری کا وہ درجہ ہے جب کہ اس کی شخصیت اس طرح جاگ اٹھے کہ اس کا کوئی گوشہ جاگنے سے بچا ہوا نہ ہو۔
کسی انسان کی شخصیت میں جب اس قسم کا انقلاب آتا ہے تو وہ ایک نیا انسان بن جاتا ہے۔ اس کا سول کنسرن (sole concern) صرف اللہ بن جاتا ہے۔ اس کی ساری وفاداری ایک اللہ کے لیے ہو جاتی ہے۔ اللہ اس کی طلب کا مرکز بن جاتا ہے۔
اس کی زبان سے ایسے الفاظ نکلنے لگتے ہیں جو اس سے پہلے نہیں نکلے تھے۔ اس کو محسوس ہوتا ہے جیسے کہ اللہ اس کا سب کچھ بن گیا ہے، یہ انسانی دریافت کا اعلیٰ ترین مقام ہے۔ دریافت کی اس سطح پر پہنچ کر آدمی کے دل سے جو دعائیں نکلتی ہیں اس کی ایک مثال قرآن میں آسیہ بنت مزاحم کی دعا ہے۔ جب فرعون اس کو قتل کرنے کے لیے تلوار لے کر کھڑا ہو گیا تو اس وقت آسیہ کی زبان سے دعا کے جو الفاظ نکلے اس کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں آیا ہے: رَبِّ ابْنِ لِي عِنْدَكَ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ (66:11)۔ اے میرے رب میرے لیے ایک گھر بنا دے اپنے پاس جنت میں۔ یہ دعا اللہ کی گہری دریافت سے نکلی ہوئی دعا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2024 All issues