سب سے بڑا
الرسالہ، ستمبر ۲۰۲۴، صفحہ ۵
خدا اور انسان
آج انسان ایک ایسی دنیا میں رہتا ہے جو مکان و زمان (space and time) پر مبنی ہے۔ اس دنیا میں خدا رب العالمین کی حیثیت سے ایک سرے پر ہے اور انسان مخلوق کی حیثیت سے دوسرے سرے پر۔ لیکن اگر ایسا ہو کہ زمان و مکان کی حدیں ختم ہو جائیں۔ وہاں پر خدا کہاں ہوگا اور انسان کہاں ہوگا۔ کیا دونوں پھر بھی الگ الگ ہوں گے یا دونوں ایک ہو جائیں گے۔ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ خدا ایک لامحدود ہستی (unlimited being) ہے۔ خدا ہی اول ہے اور وہی آخر (الحدید، 57)۔ وہ ازل سے ہے اور ابد تک رہے گا۔ خدا ایسا اس لیے ہے کہ وہ خالق ہے۔ انسان ایسا نہیں، کیوں کہ وہ مخلوق ہے۔ خدا اور انسان کے درمیان یہ فرق ہمیشہ باقی رہے گا۔ وہ کبھی ختم ہونے والا نہیں۔ خدا لامحدود ہے اور وہ ہمیشہ لامحدود (unlimited) ہی رہے گا۔ اس کے مقابلہ میں انسان لمیٹڈ ہے اور وہ ہمیشہ لمیٹڈ ہی باقی رہے گا۔ کسی کو یہ طاقت نہیں ہے کہ وہ اس ایکویشن (equation) کو بدل دے۔ خدا اور بندے کے درمیان یہ پوزیشن کبھی بدلنے والی نہیں۔ اس موضوع سے متعلق تمام سوالات کا جواب یہی ہے۔ یہ جواب اتنا زیادہ حتمی ہے کہ اس میں کبھی تبدیلی آنے والی نہیں۔ اس مسئلہ پر جو سوالات کیے جاتے ہیں وہ سب غیر منطقی (illogical) ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ انسان ایک ایسی مخلوق ہے جو زمان و مکان کے اندر پایا جاتا ہے۔ اس کے مقابلہ میں خدا ایک ایسی ہستی ہے جو زمان و مکان سے ماورا (beyond space and time) ہے۔ ایسی حالت میں انسان کے لیے اس معاملہ میں صرف ایک آپشن ہے۔ وہ یہ کہ اس فطری حقیقت کو وہ بطور واقعہ مان لے، نہ کہ اپنے محدود ذہن کے ساتھ اس کی توجیہ کرنے کی کوشش کرے۔ اس معاملہ میں حقیقت واقعہ یہ ہے کہ انسان مخلوق ہے، وہ خالق نہیں بن سکتا۔ خدا خالق ہے، وہ مخلوق نہیں۔ اس لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ مخلوق کی اصطلاحوں میں ایکسپلین (explain) ہو سکے۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2024 All issues