سمتِ سفر
الرسالہ، جنوری ۲۰۲۴، صفحہ ۲۸
اصل مسئلہ
فلسطینی تحریک انتفاضہ (uprising) کے بارے میں بہت سی کتابیں چھپی ہیں۔ ان میں سے ایک 125 صفحہ کی وہ عربی کتاب ہے جو اس وقت ہمارے پیش نظر ہے: اس کتاب کے ایک باب میں کہا گیا ہے کہ رسول اللہ صلّیٰ اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک مسلم عورت مدینہ کے ایک یہودی بازار میں تھی۔ ایک یہودی نے اس کی عزت پر حملہ کرنے کی کوشش کی۔ عورت نے فریاد کی۔ قریب میں موجود ایک مسلمان نے اس کو سنا اور فوراً ہی تلوار لے کر یہودی کی گردن مار دی (سیرت ابن ہشام، جلد 2، صفحہ 48)۔
اسی طرح عموریہ میں ایک مسلم عورت کو رومیوں نے گرفتار کر لیا۔ اس نے فریاد کرتے ہوئے کہا: وا مُعْتَصِماه (ہائے معتصم)۔ ایک مسلمان نے اس پکار کو سنا اور اس کو بغداد کے خلیفہ معتصم تک پہنچایا۔ خلیفہ معتصم فوراً فوج لے کر روانہ ہوا اور عموریہ پہنچ کر مسلم خاتون کو رہائی دلائی (المنتظم في التاریخ لابن الجوزی، جلد 11، صفحہ 29)۔ تاریخ اسلامی کے ان دو واقعات کو نقل کرنے کے بعد صاحب کتاب لکھتے ہیں:
کتنی ہی بار فلسطین میں اور لبنان کے خیمہ گاہوں میں اور مختلف ملکوں میں بیواؤں اور یتیموں اور بوڑھوں اور بچوں کے منھ سے فریاد اور اعانت طلبی کی پکار بلند ہوئی۔ مگر مسلمانوں کی طرف سے انہیں کوئی جواب نہیں ملا۔ امت میں کوئی رہنما اور کوئی لیڈر اور کوئی جماعت اور کوئی حاکم ان کی مدد کے لیے حرکت میں نہیں آیا۔ گویا کہ روئے زمین کے مسلمانوں کے لیے ان کے بھائیوں کا معاملہ کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔
صاحب کتاب کے یہ آخری الفاظ بالکل خلاف واقعہ ہیں۔ حقیقت عین اس کے برعکس ہے۔ اصل واقعہ یہ ہے کہ فلسطین میں اور دوسرے ملکوں میں مظلوم مسلمانوں (عورتوں اور مردوں) کی پکار پر بے شمار لوگ اٹھے۔ 1948ء میں حسن البنا (وفات 1949ء) مسلمانوں کی بہت بڑی جمعیت کے ساتھ
‹ Previous page Next page › Contents of January 2024 All issues