سمتِ سفر
الرسالہ، جنوری ۲۰۲۴، صفحہ ۲۹
اٹھے اور لبیک یا فلسطین کا نعرہ لگاتے ہوئے یہودیوں کے خلاف جہاد کیا۔ 1965 میں جمال عبدالناصر نے حکومت کی پوری طاقت کے ساتھ ان کا مقابلہ کیا۔ مگر یہ ساری کوششیں غیر مؤثر ثابت ہوئیں ۔ اسی طرح ساری دنیا میں لاکھوں مسلمانوں نے اپنے مظلوم بھائیوں کی حمایت میں جہاد کیا اور اسی راہ میں اپنی جانیں دیدیں ۔
مدینہ میں یا عموریہ میں مظلوم خواتین کی مدد کے لیے جو قربانی دی گئی وہ مقدار کے اعتبار سے اس سے بہت کم ہے جو موجودہ زمانہ میں اس قسم کے مظلوم عورتوں اور مردوں کے لیے دی گئی ہے ۔ مگر نتیجہ بالکل مختلف ہے ۔ مدینہ میں اور عموریہ میں نسبتاً کم قربانیوں سے جو مقصد حاصل کر لیا گیا تھا ، وہ موجودہ زمانہ میں زیادہ قربانی کے باوجود حاصل نہ کیا جا سکا۔
صاحب کتاب اور اس قسم کے دوسرے مسلمانوں کی غلطی یہ ہے کہ وہ اپنی سوچ کا آغاز ” مدینہ “ اور ” عموریہ “ سے کر رہے ہیں ۔ حالاں کہ یہ صحیح نہیں ۔ انہیں اپنی سوچ کا آغاز ” مکہ “ سے کرنا چاہیے ۔ ” مدینہ “ اور ” عموریہ “ تو اسلامی تاریخ میں مرحلہ تیاری (formative period) کی انتہا تھے ، وہ اس کا آغاز نہ تھا۔ مرحلہ تیاری کا آغاز تو مکہ سے ہوا۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے زوال کی بنا پر ان کی تیاری کا معاملہ دوبارہ پیچھے کی طرف لوٹ گیا ہے۔ ان کے اندر اس قسم کے زندہ افراد موجود نہیں ہیں ، جس قسم کے زندہ افراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیار کیے تھے۔ فرد کی تیاری کے اعتبار سے آج ہم اپنی تاریخ کے آغاز میں ہیں ، ہم اپنی تاریخ کے اختتام میں نہیں ہیں۔ موجودہ مسلم رہنما اس راز کو سمجھ نہ سکے۔ اس لیے وہ ایسے اقدامات کرتے رہے جس کا نتیجہ نا کامی کے سوا کسی اور صورت میں نکلنے والا نہ تھا۔ اس معاملہ کو سمجھنے کے لیے ہمیں پیچھے لوٹ کر مکہ کے ابتدائی دور میں جانا ہوگا ۔ اس اعتبار سے جب ہم مکہ کے حالات کا مطالعہ کرتے ہیں تو وہاں ہم کو ’ مدینہ ‘ اور ’ عموریہ ‘ سے بالکل مختلف تصویر نظر آتی ہے۔ مثلاً ابن اسحاق کہتے ہیں کہ عمار بن یاسر، ان کے باپ اور ماں سمیہ بنو مخزوم کے حلیف اور مولیٰ تھے اور اسلام قبول کر چکے تھے۔ چنانچہ بنو مخزوم کے قبیلے کے لوگ دوپہر کے وقت جب گرمی خوب تیز ہو جاتی تو ان سب کو لے کر مکہ کے باہر نکلتے اور صحرا کی گرم ریت پر لٹا کر تکلیف دیتے ۔ رسول
‹ Previous page Next page › Contents of January 2024 All issues