مقصدِ زندگی
الرسالہ، ستمبر ۲۰۲۴، صفحہ ۷
مقصدِ زندگی
قرآن کی ایک آیت بتاتی ہے کہ انسان اور جن کو اس لیے پیدا کیا گیا کہ وہ اللہ کی عبادت کریں (52:56)۔ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں وہ عبادت مراد ہے جس کو مبنی بر معرفت عبادت کہہ سکتے ہیں۔ فضیل بن عیاض (وفات 187ھ) کا قول ہے کہ مومن کا کلام حکمت ہوتا ہے، اس کی خاموشی غور وفکر ہوتی ہے، اور اس کا دیکھنا عبرت کے لیے ہوتا ہے۔ اگر تم ایسے ہو تو تم برابر عبادت کی حالت میں ہو (کَلاَمُ الْمُؤْمِنِ حِکَمٌ وَصَمْتُهُ تَفَکُرٌ، وَنَظَرُهُ عِبْرَةٌ اِذَا کُنْتَ کَذٰلِکَ لَمْ تَزَلْ فِي الْعِبَادَةِ)۔ پھر اس کے بعد انھوں نے قرآن کی یہ آیت پڑھی: وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (52:56)۔ یعنی، میں نے جن اور انسان کو صرف اسی لیے پیدا کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں۔ (العظمة لابی الشیخ الاصفہانی، جلد 1، صفحہ 304)
معرفت یہ ہے کہ انسان تدبر و تفکر کر کے حقیقتِ حیات کو دریافت کرے۔ وہ اس حقیقت کو دریافت کے درجہ میں جانے کہ اس دنیا میں ایک طرف اللہ رب العالمین ہے اور دوسری طرف انسان ہے۔ اللہ رب العالمین ہر اعتبار سے کامل ہے۔ وہ خلاّق ہے، وہ علّام ہے، وہ رزّاق ہے۔ اس کے برعکس، انسان ہر اعتبار سے محتاج ہے۔ اس کی پوری زندگی عطیہ ہے۔ وہ دینے سے پاتا ہے، نہ دیا جائے تو اس کو کچھ نہیں ملے گا۔ انسان کے لیے معرفت یہ ہے کہ وہ قادرِ مطلق (all-powerful) خالق کو دریافت کرے۔ یہ شعوری دریافت آدمی کو اس قابل بنائے گی کہ وہ قادرِ مطلق خدا کے مقابلہ میں اپنے کو عاجز مطلق (all-powerless) ہونے کی دوسری انتہا (extent) پر رکھے۔ یہی انسان کا کمال ہے۔ جب کوئی انسان دریافت کے اس درجہ تک پہنچتا ہے تو اس کے اندر فطری طور پر ایک نئی شخصیت ایمرج (emerge) کرتی ہے۔ وہ اس قابل ہوجاتا ہے کہ اس کے اندر ایک نئی ربانی پرسنالٹی کو ڈیولپ کرے۔ یہی ترقی یافتہ انسان (developed man) آخرت میں احسن العمل انسان کا درجہ پائے۔ وہ جنت کے حسن رفاقت والے معاشرہ (النساء، 4:69) میں تاریخ کے منتخب انسانوں کے ساتھ ابدی طور پر رہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2024 All issues