Al-Risala · September 2024 · page 6

سب سے بڑا

الرسالہ، ستمبر ۲۰۲۴، صفحہ ۶

رحمت خداوندی قرآن کی ایک آیت کا ترجمہ یہ ہے:

کہو کہ اے میرے بندو جنھوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو کیوں کہ اللہ تمام گناہوں کو بخشنے والا ہے (39:53)۔

اس آیت سے بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ معافی کا یہ معاملہ اپنے آپ ہو جاتا ہے۔ بندہ غلطی کرتا رہتا ہے اور اللہ خود بخود اس کو معاف کرتا رہتا ہے۔ مگر بات یہ نہیں ہے۔ اس آیت کے درمیان ایک چیز بظاہر غیر مذکور ہے۔ لیکن قرآن کے اسلوب کی بنا پر یہ بات طے شدہ ہے کہ وہ یہاں یقینی طور پر موجود ہے۔ وہ بات یہ کہ بندہ غلطی کرنے کے بعد معافی مانگے تو اللہ کی رحمت کا تقاضا ہو گا کہ وہ اس کو معاف کر دے۔

یہ بات ایک عام انسان کے لیے نہیں ہے بلکہ وہ اس انسان کے لیے ہے جس کے اندر اس کا ضمیر زندہ ہو۔ غلطی کرنے کے بعد اس کے اندر شرمندگی (repentance) کا جذبہ جاگ اٹھتا ہے۔ وہ شدید احساس کے ساتھ اللہ سے معافی کا طالب بن جاتا ہے۔ شدید احساس ندامت کی بنا پر اس وقت وہ ایسے الفاظ بولتا ہے جو اللہ کی رحمت کو طلب (invoke) کرنے والے ہوتے ہیں۔ اس کی غلطی صرف عام قسم کی غلطی نہیں ہوتی بلکہ اس کے بعد شدت ندامت کی بنا پر اس کے اندر ایک نئی شخصیت ایمرج (emerge) کرتی ہے۔ وہ گناہ سے پہلے جیسا انسان تھا وہ گناہ کے بعد اس سے مختلف ایک نیا انسان بن جاتا ہے۔ جب انسان کی غلطی اس کے لیے داخلی انقلاب کا ذریعہ بن جائے تو اس کا کیس ایسا کیس بن جاتا ہے جو اللہ کی رحمت کو ان ووک کر دے۔ اور اللہ اپنی رحمت خاص کی بنا پر اس کے لیے معافی کا اعلان کر دے۔ یہ ایک واقعہ ہے کہ اللہ اپنی رحمت سے بندے کے ہر گناہ کو بخش دیتا ہے مگر یہ وہی بندہ ہے جس کا گناہ اس کی شخصیت میں اتنا زیادہ انقلاب لائے کہ اس کے بعد وہ ایک نیا انسان بن جائے۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 2024 All issues

Printed page