Al-Risala · September 2024 · page 13

امت کا امتحان

الرسالہ، ستمبر ۲۰۲۴، صفحہ ۱۳

امت کا امتحان

پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا مشن دعوت الی اللہ کا مشن تھا۔ اس کام کی مطلوب انجام دہی کے لیے آپ کو یہ حکم دیا گیا کہ آپ ہرگز ”رَکُونُ“ نہ کریں۔ اس سلسلہ میں قرآن کی آیت کا ترجمہ یہ ہے: اور ان کی طرف نہ جھکو (وَلَا تَرْكَنُوا) جنھوں نے ظلم کیا، ورنہ تم کو آگ پکڑ لے گی اور اللہ کے سوا تمہارا کوئی مددگار نہیں، پھر تم کہیں مدد نہ پاؤگے (11:113)۔

رُکُون کے معنی ہیں جھکاؤ (tilt)۔ یعنی قوم کے تقاضے، لوگوں کا دباؤ، حالات کی مصلحت، اس قسم کی مختلف چیزیں داعی کے اندر رکون کا ذہن پیدا کرتی ہیں۔ لیکن پیغمبر کو سختی کے ساتھ حکم تھا کہ وہ کسی بھی دباؤ کو قبول نہ کرے۔ وہ سختی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے اصولوں پر قائم رہ کر اپنا دعوتی مشن جاری رکھے۔

دعوت کے مشن میں استقامت کا یہ اصول جس طرح پیغمبر کے لیے تھا، اسی طرح پیغمبر کی امت کے لیے بھی ہے۔ اس معاملہ میں امت اپنے پیغمبر کی نمائندہ ہے اور نمائندہ کو یہ حق نہیں ہوتا کہ وہ اس معاملہ میں کسی بھی دباؤ کو قبول کر کے اصل مشن میں کسی قسم کی تبدیلی کرے۔ اگر وہ تبدیلی کا ارتکاب کرے تو اس کے لیے بھی یقینی طور پر اسی پکڑ کا اندیشہ ہے جس کا ذکر اوپر کی آیت میں پیغمبر کے لیے کیا گیا۔ دعوت الی اللہ کے کام کے لیے یہ لازمی شرط ہے۔ اس شرط کے بغیر دعوت الی اللہ کا کام درست طور پر انجام نہیں دیا جاسکتا۔ اور جب دعوت الی اللہ کا کام درست طور پر انجام نہ دیا جائے تو وہ مقصد ادا نہیں ہوتا جو دعوت الی اللہ کا مطلوب ہے، یعنی قوموں پر اللہ کی حجت ادا نہیں ہوتی (النساء، 4:165)۔ دعوت الی اللہ کا کام ایک مختلف نوعیت کا کام ہے۔ اس میں دوسرے تمام تقاضوں کو الگ رکھنا پڑتا ہے۔ مثلاً قومی تقاضے، مادی تقاضے، وغیرہ۔ ان تقاضوں سے بچتے ہوئے دعوت کا کام کرنا بلاشبہ ایک سخت کام ہے۔ لیکن امت کو بہر حال میں یہ کرنا ہے کہ وہ دوسرے تمام تقاضوں کا اثر قبول نہ کرتے ہوئے اس خدائی مشن کو جاری رکھیں۔ یہی امت کا امتحان ہے۔ اس امتحان میں پورا ہونا امت محمدی کو امت محمدی بناتا ہے اور اگر امت اس امتحان میں ناکام رہے تو خود یہ امر مشتبہ ہو جائے گا کہ وہ اللہ کے یہاں امت محمدی کی حیثیت سے قبول کی جائے گی یا نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 2024 All issues

Printed page