Al-Risala · September 2024 · page 14

شہادت علی الناس

الرسالہ، ستمبر ۲۰۲۴، صفحہ ۱۴

شہادت علی الناس

مشہور پلے بیک سنگر مکیش چندر ماتھر (پیدائش 1923) امریکا کے ایک سفر میں کہ 27 اگست 1976 کو ہارٹ اٹیک سے اچانک انتقال کرگئے۔ ان کے حالات جو اخباروں میں آئے ہیں، ان میں ایک بات یہ بھی تھی کہ وہ اردو زبان بہت اچھی جانتے تھے۔ ابتداءً وہ ہندی سے ناواقف تھے۔ بعد کو ضرورت کے تحت ہندی زبان سیکھی۔ کیونکہ انھوں نے اپنی زندگی میں جو دس ہزار گانے ریکارڈ کرائے ہیں، ان میں سے ایک تلسی داس کی رامائن بھی ہے جس کو انھوں نے تین سال میں مکمل کیا تھا۔

1947 میں ہندوستان آزاد ہوا تو برادران وطن میں اس طرح کے بے شمار لوگ تھے جنھوں نے اپنے اسکولوں میں اردو پڑھی تھی۔ پنجابیوں کا سیلاب یہاں پہنچا تو اس طرح کے لوگوں کی تعداد بڑھ گئی۔ آزادی کے بعد تقریباً چوتھائی صدی تک انڈیا کی عام زبان اردو ہی تھی۔ ہم نہایت آسانی کے ساتھ اردو کے ذریعہ ان سب لوگوں تک خدا کا وہ پیغام پہنچا سکتے تھے جس کے پہنچانے کی لازمی ذمہ داری بحیثیت امت مسلمہ ہمارے سپرد کی گئی ہے۔

اب یہ لوگ اٹھتے جا رہے ہیں اور ان کی جگہ دوسری نسل لے رہی ہے۔ داعی اور مدعو کے درمیان لسانی دوری بڑھتی جارہی ہے، جو کام پہلے ہم اپنی مادری زبان میں کر سکتے تھے، اس کے لیے اب ہم کو دوسری زبانیں سیکھنی ہیں اور ان کے اندر مہارت پیدا کرنی ہے۔ ایک کام جو پہلے آسان تھا، مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔

کیسی عجیب بات ہے کہ اس کے باوجود لوگ راتوں کو اطمینان کی نیند سوتے ہیں۔ شاید انھیں یاد نہیں رہا کہ انھیں مرنے کے بعد خدا کے سامنے کھڑا ہونا ہے۔ جب خدا پوچھے گا کہ تم نے ہمارا پیغام ہمارے بندوں تک کیوں نہ پہنچایا تو ہم کیا جواب دیں گے۔ اور اگر ہم کو ”خدا کی گواہی چھپانے“ کا مجرم قرار دے دیا جائے تو ہمارے پاس اس سے بچنے کی کیا سبیل ہوگی۔ (الرسالہ، دسمبر 1976)

‹ Previous page Next page › Contents of September 2024 All issues

Printed page