Al-Risala · September 2024 · page 19

مدعو کا مطالعہ

الرسالہ، ستمبر ۲۰۲۴، صفحہ ۱۹

کرنے کا کام

ایک حدیث رسول مسند احمد میں ان الفاظ میں نقل کی گئی ہے: عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِنَّ النَّاسَ دَخَلُوا فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًا، وَسَيَخْرُجُونَ مِنْهُ أَفْوَاجًا (مسند احمد، حدیث نمبر 14696)۔ یعنی صحابی رسول جابر بن عبد اللہ نے کہا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ لوگ فوج در فوج اللہ کے دین میں داخل ہو گئے عنقریب اسی طرح فوج در فوج وہ اس سے نکل جائیں گے۔

ایک شارح نے اس کی تشریح میں یہ الفاظ لکھے ہیں: وَذَلِكَ فِي آخِرِ الزَّمَانِ عِنْدَ وجودِ الأشراط (التيسير بشرح الجامع الصغیر، جلد 1، صفحہ 303)۔ یعنی یہ آخری زمانے میں ہوگا، قیامت کی نشانیوں کے وجود میں آنے کے وقت۔

ایسا کیوں ہے کہ آخری زمانے میں لوگ دین سے نکل جائیں گے۔ اصل یہ ہے کہ ابتدائے اسلام میں واقعہ یہ ہوا کہ لوگ قدیم روایتی شاکلہ میں جیتے تھے، تو ان کو دین سمجھانے کے لیے روایتی اسلوب اختیار کیا گیا جوان کے مائنڈ کو ایڈریس کرتا تھا۔ اس کے بعد وہ دور آیا، جس کو سائنسی دور کہا جاتا ہے۔ غالباً یہی وہ دور ہے، جس کی پیشگی اطلاع قرآن میں ان الفاظ میں دی گئی تھی: سَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنْفُسِهِمْ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقِّ (41:53)۔ یعنی عنقریب ہم ان کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے آفاق میں اور انفس میں۔ یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہو جائے گا کہ یہ حق ہے۔

لیکن یہ سائنسی زمانہ روایتی دور کے بالکل برعکس تھا۔ اس دور میں سائنسی دریافتوں کی وجہ سے انسان کی سوچ مکمل طور پر تبدیل ہو چکی تھی۔ مثلاً قدیم دور میں توحید کے مقابلے میں توہم پرستی پر مبنی شرک تھا، اب توحید کے مقابلے میں قدیم شرک کے بجائے جدید الحاد کھڑا تھا۔ الحاد بظاہر سائنسی دلائل پر مبنی انکار خدا کا نظریہ ہے۔ اس دور میں اہل اسلام کو چاہیے تھا کہ وہ الحاد اور اس کے دلائل کو سمجھنے کی

‹ Previous page Next page › Contents of September 2024 All issues

Printed page