Al-Risala · September 2024 · page 20

مدعو کا مطالعہ

الرسالہ، ستمبر ۲۰۲۴، صفحہ ۲۰

کوشش کرتے ۔ سائنسی دلائل (بہ الفاظ دیگر آفاق و انفَس کی نشانیوں) کو استعمال کرتے ہوئے توحید کی حقانیت کو ثابت کرتے ۔ مگر مغربی استعماری قوتوں سے سیاسی مغلوبیت نے مسلمانوں کو اس قدر منفی بنا دیا تھا کہ استعماری قوموں سے وابستہ ہر چیز بشمول سائنسی علوم اور سائنسی تہذیب کو دین کا دشمن سمجھ کر پوری شدت سے اس کی مخالفت میں مشغول ہوگئے۔

حالاں کہ اس وقت کرنے کا کام یہ تھا کہ الحاد کے مقابلے کے لیے مائنڈ کو ایڈریس کرنے والا مضبوط لٹریچر تیار کیا جاتا۔ تاکہ جوذہن جدید تعلیم کی وجہ سے مذہب کے بارے میں عدم اطمینان کے شکار ہو رہے ہیں، وہ مذہب کے حق میں موجود دلائل کی بنا پر مذہب کے بارے میں شعوری طور پر مطمئن ہوجاتے۔ کیوں کہ جہاں بظاہر کچھ دلائل انکار خدا کے حق میں موجود تھے تو اس سے بھی زیادہ مضبوط دلائل اس حق میں موجود تھے کہ اس کائنات کا ایک خدا ہے، جس نے اس دنیا کو ایک مقصد کے تحت پیدا کیا ہے ۔ لیکن نئے دور سے بے خبری کی بنا پر ہمارے علما نے اس قسم کے جدید تعلیم یافتہ لوگوں پر ارتداد کا فتویٰ لگا دیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جو لوگ مذہب کے بارے میں کنفیوزن کا کیس تھے، وہ دین سے بیزاری کا کیس بن گئے۔ سلمان رشدی یا دوسرے افراد جن کو مسلمان مرتد یا شاتم کہتے ہیں، ان کا کیس اسی نوعیت کا ہے۔ جب میں نے تحقیق کی، اور جدید تعلیم یافتہ لوگوں سے ملاقاتیں کیں تو معلوم ہوا کہ جدید انسان کا کیس ذہنی ارتداد (intellectual apostasy) کا کیس نہیں ہے، بلکہ وہ ذہنی عدم اطمینان کا کیس ہے (intellectual dissatisfaction)۔

ایک بار میری ملاقات ایک مدرسہ کے ذمہ دار سے ہوئی، انھوں نے سوال کیا کہ مدارس کے ذمے داران اکثر یہ شکایت کرتے ہیں کہ ان مدارس کے ذریعے تعلیم کا مقصد تو حاصل ہوا، لیکن افراد سازی کا مقصد بہت کم حاصل ہوسکا۔ اس کے جواب میں میں نے کہا کہ اس کا سبب یہ ہے کہ قرآن کے مطابق، انسان کی شخصیت اس کے شاکلہ (17:84) کے مطابق بنتی ہے ۔ شاکلہ سے مراد ذہنی سانچہ (mindset) ہے۔

ہمارے مدارس کا معاملہ یہ ہے کہ وہاں کا پورا ماحول قدیم شاکلہ پر مبنی ہوتا ہے، جب کہ موجودہ

‹ Previous page Next page › Contents of September 2024 All issues

Printed page